تاثیر 18 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
نئی دہلی، 18 اگست : سپریم کورٹ نے ملک میں پھانسی کی سزا کے بجائے کوئی متبادل طریقہ اختیار کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے جس میں ’آسان موت‘ یعنی موت کے وقت کم سے کم تکلیف ہو۔ جسٹس وکرم ناتھ کی سربراہی والی بنچ نے واضح کیا کہ مرکزی حکومت چاہے تو ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دے کر سزائے موت دینے کے دیگر طریقوں پر غور کر سکتی ہے، جن میں سزا یافتہ افراد کو کم سے کم درد اور تکلیف ہو اور آئین کے بنیادی تقاضے بھی پورے ہوں۔ سپریم کورٹ کا آج کا فیصلہ حکومت کو ایسا کرنے سے نہیں روکتا۔
یہ درخواست سینئر وکیل رشی ملہوترا نے دائر کی تھی۔ انہوں نے اپنی عرضی میں کہا تھا کہ زندگی کے بنیادی حق میں باوقار طریقے سے مرنے کا حق بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ پھانسی کے بجائے سزائے موت دینے کے لیے کوئی دوسرا طریقہ اختیار کیا جائے۔ عرضی میں پھانسی کو موت دینے کا انتہائی تکلیف دہ اور وحشیانہ طریقہ قرار دیتے ہوئے زہریلا انجکشن، گولی مارنا، گیس چیمبر یا بجلی کا جھٹکا دینے جیسے متبادل طریقے اپنانے کی مانگ کی گئی تھی۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ پھانسی کے ذریعے موت واقع ہونے میں 40 منٹ تک لگ سکتے ہیں، جبکہ گولی مارنے یا برقی کرسی کے ذریعے موت چند منٹ میں واقع ہو سکتی ہے۔

