!سب کو مل کر کام کرنا ہوگا

تاثیر 02 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

بھارت آج ترقی یافتہ قوم بننے کے عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ اس سفر میں سب سے قیمتی سرمایہ نوجوان نسل ہے۔اسے بچانے کے لئے کل بروز اتوار پی ایم نریندر مودی نے ’’نشہ مکت یوتھ فار وکست بھارت سنکلپ ابھیان‘‘ کے نام سے ایک بڑے حساس کیمپِن کا آغاز کیا۔یہ کیمپِن دراصل ’’نشہ سےپاک بھارت‘‘ کے مفروضے کو زمین پر اتارنے کی کوشش ہے۔ یہ مہم محض ایک سرکاری پروگرام نہیں بلکہ ایک قومی تحریک ہے، جو نوجوانوں کو نشے کی لعنت سے دور رکھنے اور انہیں جسمانی و ذہنی طور پر صحت مند بنانے کا پیغام دیتی ہے۔ اس پہل کی اہمیت اس بات میں پنہاں ہے کہ یہ فرد، خاندان، سماج اور بالآخر قوم کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی راہ کی جانب اٹھنے والا ایک ٹھوس قدم کی مانند ہے۔
نشے کی لت آج بھارت کے کئی علاقوں میں ایک سنگین سماجی مسئلہ بن چکی ہے۔ نوجوانوں میں منشیات کے استعمال میں اضافہ نہ صرف ان کی صحت کو تباہ کر رہا ہے بلکہ ان کی تخلیقی صلاحیتوں، اعتماد اور مستقبل کے خوابوں کو بھی کھوکھلا کر رہا ہے۔ جسمانی کمزوری، ذہنی تناؤ، خاندانی ٹوٹ پھوٹ اور سماجی بگاڑ اس کی کچھ نمایاں صورتحال ہیں۔ جب نوجوان نشے کی لپیٹ میں آتے ہیں تو قوم کی ترقی کی رفتار خود بخود سست پڑ جاتی ہے۔ اس پس منظر میں یہ مہم ایک بروقت اور ضروری قدم ثابت ہو رہی ہے۔
اس مہم کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو نشے کے خطرات سے آگاہ کرنا اور انہیں مثبت تبدیلی کا سفیر بنانا ہے۔ اس مہم میں کھیلوں کے مقابلوں، واک تھون، میڈِٹیشن، کلچرل ایونٹس اور باقاعدہ آگاہی مہمات کا انعقادشامل ہوگا۔ اس کے تحت ہر اتوار کو ملک بھر میں ہفتہ وار سرگرمیاں اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ یہ تحریک صرف افتتاحی تقریب تک محدود نہ رہے بلکہ ایک مسلسل قومی تحریک کی شکل اختیار کرے۔ کاشی سے شروع ہونے والے اس پائلٹ پروجیکٹ اور 125 سے زائد روحانی تنظیموں کی شمولیت سے مانا جا رہا ہے کہ اس مہم کو ایک مضبوط ثقافتی اور روحانی بنیاد بھی فراہم ہوگی۔ یہ مسلّم ہے کہ بھارتی روایت نے ہمیشہ نشے کی نفی کی ہے اور اسی روایت کو جدید سائنسی شعور کے ساتھ جوڑ کر اس مہم کو ایک جامع شکل میں زمین پر اتارنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس پہل کی سب سے بڑی طاقت عوامی شراکت ہے۔ جب افراد تنہا کوشش کرتے ہیں تو مشکلات زیادہ محسوس ہوتی ہیں، لیکن اجتماعی کوششوں سے توانائی اور حوصلہ دونوں بڑھ جاتےہیں۔ نوجوانوں کا اس مہم میں بھرپور طور پر شامل ہونا نہ صرف ان کی ذمہ داری ہے بلکہ ان کے اپنے مستقبل کی ضمانت بھی ہے۔ جو نسل اگلے بیس سے پچیس برس میں ملک کو ترقی یافتہ بنانے کا بیڑا اٹھائے گی، اسے جسمانی و ذہنی طور پر تندرست رہنا لازمی ہے۔ نشے سے پاک نوجوان ہی ترقی یافتہ بھارت کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔
اس مہم کو کامیاب بنانے کے لئے صرف سرکاری کوششیں کافی نہیں ہیں۔ والدین، اساتذہ، کمیونٹی رہنما اور عام شہریوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ گھروں میں کھلی گفتگو، تعلیمی اداروں میں باقاعدہ آگاہی سیشنز، محلے کی سطح پر اسپورٹ گروپس اور سوشل میڈیا پر مثبت پیغامات کی تشہیر اس تحریک کو مضبوط بنا سکتی ہے۔ نوجوانوں کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے اردگرد کے دوستوں اور ملنے جلنے والے نوجوانوں کو نشے سے دور رکھنے میں مدد کریں، مشکوک سرگرمیوں میں ملوث نوجوانوں کو ایک بہتر زندگی گزارنے کی تاکید کریں اور خود کو صحت مند تفریحی سرگرمیوں میں مصروف رکھیں۔ کھیلوں، آرٹس، رضاکارانہ خدمات اور تعلیم جیسے مثبت راستے ہی نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھار سکتے ہیں۔
یہ مہم’’ وکست بھارت2047‘‘ کے وسیع تر ویژن سے جڑی ہوئی ہے۔ ایک ایسا بھارت ،جہاں نوجوان توانائی، تخیل اور صلاحیت سے بھرپور ہوں اور ہر طرح کے نشے سے پاک ہوں۔ اس مقصد کے حصول کے لئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ نشے سے پاک معاشرہ صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی ضرورت ہے۔ جو قوم اپنے نوجوانوں کو محفوظ اور صحت مند رکھتی ہے، وہی قوم حقیقی ترقی کی منزل تک پہنچ سکتی ہے۔چنانچہ اس قومی عزم کو کامیاب بنانے کے لئے ہر شہری، خصوصاً نوجوان نسل، کو آگے آنا چاہیے۔ چھوٹے چھوٹے اقدامات بھی بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ آج کا فیصلہ کل کے بھارت کی شکل متعین کرے گا۔ نشے سے پاک یوتھ ہی ترقی یافتہ بھارت کی سب سے مضبوط بنیاد ثابت ہوں گے۔ اس مہم میں فعال شراکت ہی اس بنیاد کو مستحکم کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔