تاثیر 10 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
سہسرام ( انجم ایڈوکیٹ ) آج مورخہ 10 اگست 2026 کو روہتاس ضلع کے سہسرام ہیڈکوارٹر میں ملک گیر جیل بھرو ابھیان کے ایک حصے کے طور پر کسانوں مزدوروں اور ٹریڈ یونینوں کا ایک مشترکہ مظاہرہ کشواہا سبھا بھون سے شروع ہوا اور دھرمشالہ چوک، پوسٹ آفس چوک اور کرگہر موڈ سے ہوتا ہوا کلکٹریٹ تک پہنچا ۔ مطالبات سے متعلق میمورنڈم ایک وفد نے روہتاس ضلع ڈی ایم کے توسط سے صدر جمہوریہ کو پیش کیا ۔ وفد میں جناب محمد ستار انصاری، بھولے شنکر جی، راجیش ساہ، سومناتھ یادو، بھیم سنگھ، اور سبھاش یادو شامل تھے، مظاہرے کی قیادت بھی انہیں لوگوں نے کی ۔ انکے اہم مطالبات میں بھارت امریکہ زرعی تجارتی معاہدے کو منسوخ کرنا، چار لیبر قوانین کو واپس لینا، وی بی گرام جی یوجنا واپس لینا، منریگا کی بحالی، بجلی کے بلوں کی معافی، اسمارٹ میٹروں کی واپسی، بہار کے دیہی علاقوں میں ہولڈنگ ٹیکس-واٹر ٹیکس واپس لینا، حکومت کو مستقل کرنے کی پالیسی کو واپس لینا، کنٹریکٹ کو مستقل کرنا شامل ہیں ۔ آشا ممتا کورئیر، آنگن واڑی اور ایم ڈی ایم ککس کی خدمات اور کم از کم قانونی تنخواہ 26000 روپئے وغیرہ کے ساتھ یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ پبلک سیکٹر کی نجکاری کو برداشت نہیں کیا جائیگا ۔ مظاہرے میں سینکڑوں مزدوروں اور کسانوں نے شرکت کی جسمیں محمد شاہد انصاری، رسول انصاری، انیل یادو، للن شرما، امیت کمار، راجیشور رام، چندیشور سنگھ، ششی کانت، سنجئے سنگھ، نکل سنگھ یادو، نندن سنگھ، رام سکل پاسوان، اجمل انصاری، نسیم احمد، رام جی سنگھ، راجیو دوبے، منتس، ڈی وی منا، موہن سنگھ، شیوپوجن پاسوان، سنتوش کمار، متھلیش کمار، دھننجئے کمار، شاہد انصاری، رگھورام، سنجئے رام، سرجو رام، مہندر رام، سوامی سنیل پانڈے، شمبھو ناتھ پانڈے و دیگر موجود تھے ۔ اختر شمیم ایڈوکیٹ اور دھننجئے کمار نے مشترکہ طور پر ریلی میں شریک لوگوں کا شکریہ ادا کیا ۔

