تاثیر 10 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
دربھنگہ(فضاامام): امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ، پھلواری شریف پٹنہ تعلیم، تربیت، فلاح و بہبود اور معاشرتی اصلاح کے میدان میں بھی اپنی نمایاں خدمات انجام دے رہی ہے۔ امارتِ شرعیہ کا ہمیشہ یہ مقصد رہا ہے کہ قوم کے بچوں اور نوجوانوں کو علم نافع کے ساتھ عملی زندگی کے تقاضوں سے بھی آراستہ کیا جائے، تاکہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں، اپنے خاندان کی کفالت کر سکیں اور ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔اکابرِ امارتِ شرعیہ نے خاص طور پر ان نوجوانوں کی ضرورت کو محسوس کیا جو مالی دشواریوں کے سبب اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ایسے نوجوانوں کے لیے فنی تعلیم اور ہنرمندی کو روزگار کا مؤثر ذریعہ سمجھتے ہوئے امارتِ شرعیہ نے مختلف مقامات پر ٹیکنیکل ادارے قائم کیے، تاکہ کم خرچ میں نوجوانوں کو معیاری فنی تعلیم فراہم کی جا سکے اور انہیں روزگار کے قابل بنایا جا سکے۔امارتِ شرعیہ کے آئی ٹی آئی اداروں کے قیام کے پیچھے بنیادی فکر محض طلبہ کو امتحان پاس کرا کے سند فراہم کرنا نہیں، بلکہ انہیں ایسا ہنر اور عملی تربیت دینا ہے جس کے ذریعے وہ اپنی عملی زندگی میں کامیاب ہو سکیں۔ الحمدللہ، امارتِ شرعیہ کے ٹیکنیکل اداروں سے تعلیم حاصل کرنے والے متعدد طلبہ آج مختلف شعبوں میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں اور اپنے ہنر کے ذریعے باعزت زندگی گزار رہے ہیں۔یہ باتیں امارتِ شرعیہ ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری اور امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کے صدرِ قاضی شریعت حضرت مولانا محمد انظار عالم قاسمی نے امارتِ مجیبیہ ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ، مہدولی، دربھنگہ میں منعقدہ مجلسِ منتظمہ کی میٹنگ میں اپنے تمہیدی گفتگو کے دوران کہیں۔قاضی صاحب نے مزید کہا کہ کسی بھی تعلیمی ادارے کی اصل کامیابی صرف اس بات میں نہیں ہے کہ وہاں کتنے طلبہ نے داخلہ لیا یا کتنے طلبہ کو سند حاصل ہوئی، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ وہاں سے نکلنے والا طلبہ علم، ہنر اور اخلاق سے آراستہ ہوں اور عملی زندگی میں اپنے لیے ایک باوقار مقام پیدا کر سکیں۔ امارتِ شرعیہ کے ٹیکنیکل اداروں سے بھی ہماری یہی توقع اور کوشش ہے کہ یہاں سے نکلنے والا ہر طالب علم اپنے مستقبل کے لیے مضبوط بنیاد حاصل کریں۔انہوں نے کہا کہ طلبہ کی تعداد میں مختلف ادوار میں کمی و زیادتی ہوتی رہتی ہے، لیکن اس سے ادارے کے بنیادی مقصد میں کوئی فرق نہیں آنا چاہیے۔ ہمیں اس بات پر توجہ دینی ہوگی کہ ادارے میں داخل ہونے والے ہر طالب علم کو معیاری تعلیم، مناسب تربیت اور عملی ہنر حاصل ہو، تاکہ وہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزگار کی تلاش میں بے سہارا نہ رہے بلکہ اپنے ہنر کی بنیاد پر روزگار حاصل کرنے یا اپنے لیے خود روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے قابل ہو۔قاضی محمد انظار عالم قاسمی نے مزید کہا کہ الحمدللہ، امارتِ شرعیہ کے تمام ادارے موجودہ امیرِ شریعت، مفکرِ ملت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب مدظلہٗ کی قیادت اور رہنمائی میں ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔ امارتِ مجیبیہ ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ میں بھی ہم حضرت امیرِ شریعت کی ہدایت پر حاضر ہوئے ہیں، تاکہ ادارے کی موجودہ صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے، اس کی خوبیوں اور ضروریات کو سمجھا جائے اور مستقبل میں اسے مزید مؤثر، فعال اور معیاری بنانے کے لیے ایک بہتر لائحۂ عمل تیار کیا جا سکے۔میٹنگ کا آغاز قاری نسیم اختر قاسمی کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔میٹنگ میں سابقہ کارروائی کی رپورٹ مجلسِ منتظمہ کے خازن مفتی ارشد علی رحمانی، قاضی شریعت دارالقضاء مہدولی، دربھنگہ نے مجلسِ منتظمہ کے سکریٹری ایڈوکیٹ محمد ممتاز عالم کے مشورے سے پیش کی، جس کی تمام اراکین نے تائید و توثیق کی۔ میٹنگ کے آغاز میں مجلسِ منتظمہ کے خازن مفتی ارشد علی رحمانی صاحب نے تمام اراکین کی جانب سے امارتِ شرعیہ ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری قاضی محمد انظار عالم قاسمی اور پٹنہ سے تشریف لائے ہوئے دیگر تمام معزز مہمانوں کا استقبال کیا اور ان کی آمد پر مسرت کا اظہار کیا۔اس موقع پر امارتِ شرعیہ، پٹنہ سے تشریف لائے ہوئے معزز مہمانوں میں سابق آئی جی جناب عبد الرحمن صاحب، مولانا سجاد میموریل ہاسپٹل کے سکریٹری جناب ڈاکٹر سید یاسر حبیب صاحب، امارتِ شرعیہ ٹرسٹ و شوریٰ کے رکن حافظ محمد احتشام رحمانی صاحب، جمال صاحب اور حافظ رحمت اللہ رحمانی صاحب نے ادارے کی تعلیمی، انتظامی اور تعمیری ترقی کے حوالے سے مفید تجاویز پیش کیں۔ اراکینِ مجلس نے ان مشوروں کا خیرمقدم کیا اور ادارے کو مزید مضبوط اور فعال بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔میٹنگ میں پیش کیے گئے تمام ایجنڈوں پر اراکین نے تفصیلی گفتگو کی اور مختلف امور پر کھل کر اپنی آرا پیش کیں۔ ادارے کی تعلیمی کارکردگی کو بہتر بنانے، طلبہ کی تعداد میں اضافہ کرنے، فنی تعلیم کے معیار کو بلند کرنے، ادارے کے انتظامی نظام کو مزید مؤثر بنانے اور طلبہ کے لیے بہتر مستقبل کے مواقع پیدا کرنے کے سلسلے میں مختلف تجاویز پیش کی گئیں اور متعدد تجاویز کو منظوری دی گئی۔میٹنگ میں مجلسِ منتظمہ کے چیئرمین انجینئر عبد الولی نعمانی، سکریٹری ایڈوکیٹ محمد ممتاز عالم، خازن مفتی ارشد علی رحمانی، نائب چیئرمین نظیر جیلانی، رکن ڈاکٹر شہنواز احمد کیفی، رکن شرف عالم تمنا، رکن مولانا نسیم اختر قاسمی، رکن کلیم اللہ رحمانی، رکن ڈاکٹر رحمت اللہ، رکن حافظ فیض اکرم، رکن انجینیر معروف احمد اور پرنسپل مصطفیٰ کریم اعظمی نے شرکت کی اور ادارے کی بہتری و ترقی کے سلسلے میں اپنی قیمتی آرا پیش کیں۔آخر میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ امارتِ مجیبیہ ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ کو اس کے بنیادی مقصد کے مطابق مزید فعال اور معیاری بنایا جائے گا، تاکہ یہاں زیرِ تعلیم نوجوانوں کو ایسی فنی تعلیم اور عملی تربیت حاصل ہو جو ان کے روشن مستقبل کی ضمانت بن سکے۔ امارتِ شرعیہ کی کوشش ہے کہ کوئی باصلاحیت نوجوان صرف مالی کمزوری کی وجہ سے اپنے مستقبل سے محروم نہ رہے، بلکہ اسے تعلیم، ہنر اور تربیت کے ذریعے آگے بڑھنے کا موقع ملے اور وہ اپنے لیے، اپنے خاندان کے لیے اور ملک و ملت کے لیے مفید ثابت ہو۔قاضی شریعت مولانا محمد انظار عالم قاسمی کی دعا کے ساتھ میٹنگ اختتام پذیر ہوئی۔

