تاثیر 19 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
بھارتیہ جنتا پارٹی نے قومی سطح پر اپنے تنظیمی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں کی ہیں۔قومی صدر نیتن نوین کی قیادت میں پچھلے دنوں تشکیل پذیر ، پارٹی کی نئی ٹیم میں 65 عہدیداروں کی تقرری عمل میں آئی ہے، جن میں دو مسلمان چہروں کو بھی نمایاں جگہ دی گئی ہے۔ ڈاکٹر طارق منصور کو قومی نائب صدر بنایا گیا ہے جبکہ کنور باسط علی کو قومی اقلیتی مورچہ کا صدر مقرر کیا گیا ہے۔ دونوں شخصیات اتر پردیش سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کی شمولیت بادی النظر میں پارٹی کی اس حکمت عملی کا حصہ لگتی ہے، جس کا ہدف یو پی اسمبلی انتخابات 2027 میں پسماندہ مسلم ووٹرز کو متاثر کرنا ہے۔
ڈاکٹر طارق منصور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور موجودہ ایم ایل سی ہیں۔ ان کا تعلق قریشی برادری سے ہے، جس کا شمار مسلمانوں کے پس ماندہ طبقات میں ہوتا ہے۔ ڈاکٹر طارق منصور نے علاج و معالجے کی تعلیم حاصل کی ہے۔انھوں نےکچھ دنوں تک سعودی عرب میں خدمات انجام دی ہیں۔ اس کے بعد وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پروفیسر رہے۔ 2017 میں وائس چانسلر بننے کے بعد وہ براہ راست سیاست کے میدان میں آگئے اور پھر 2023 میں بی جے پی میں شامل ہوئے۔ ان کے آر ایس ایس اور پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے قریبی تعلقات کا تذکرہ بھی کیا جاتا ہے۔دوسری طرف کنور باسط علی میرٹھ کے مسلمان راجپوت خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ انھوں نے ہوٹل مینجمنٹ کی تعلیم حاصل کی ہے۔ 2011 سے اقلیتی مورچے میں مڈل لیول سے کام شروع کر کے وہ یو پی اقلیتی مورچے کے صدر بنے اور اب قومی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ دونوں شخصیات مختلف سماجی طبقات کی نمائندگی کرتی ہیں۔
اترپردیش بی جے پی کے لئے سب سے اہم سیاسی میدان ہے۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں پارٹی کو یہاں سخت جھٹکا لگا تھا، جب اس کی سیٹیں 62 سے کم ہو کر 33 رہ گئی تھیں۔یہ وہی وقت تھا جب انتخابی مہم کے دوران یوپی کے ساتھ ساتھ پورے ملک کے ووٹرز کو 80 فیصد بنام 20فیصد کے خانوں میں بانٹنے کی کوشش کی گئی تھی۔اس کے علاوہ اور بھی ایسے کئی بیانئے گڑھے گئے تھے، جن کا مقصد ووٹوں کو پولزائزڈ کرنا تھا۔ اب 2027 کے اسمبلی انتخابات کےمد نظر پارٹی کی قومی تنظیم میں یو پی کو سب سے زیادہ نمائندگی دی گئی ہے۔ اس میں دو مسلم چہروں کی شمولیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ پارٹی مسلمانوں کو ایک معمولی ووٹ بینک سمجھنے کے بجائے ان کے اندرونی ذات پات کے روایتی نظام اور طبقاتی تقسیم کو استعمال کر کے پسماندہ طبقات تک اپنی پہنچ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ پسماندہ مسلمان، بھارت کی مسلم آبادی کا تقریباً پچاسی سے نوے فیصد حصہ ہیں۔ یہ وہ طبقہ ہے جو تاریخی طور پر سیاسی، اقتصادی اور سماجی وسائل سے محروم رہا ہے۔اعلیٰ طبقہ اور پسماندہ کے درمیان یہ تقسیم مسلم سماج میں شرعی طور پر نہ سہی، لیکن زمینی سطح پر صدیوں سے موجود ہے۔ بی جے پی اسی تقسیم کو استعمال کر کے کچھ ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جو سیاسی طور پر سمجھ میں آنے والی حکمت عملی ہے۔
تاہم، یہ بھی حقیقت ہے کہ صرف چند شخصیات کو تنظیمی عہدے دے کر عوام کا اعتماد نہیں خریدا جا سکتا ہے۔ پچھلے چند برسوں کے دوران یو پی میں مدرسوں، مزاروں اور مساجد پر بلڈوزر چلانے کے واقعات، مذہبی مقامات پر نفرت کے دباؤ اور وہاں کی فرقہ وارانہ فضا نے مسلم کمیونٹی کے ایک بڑے حصے میں گہری بے اعتمادی کے ساتھ ساتھ عدم تحفظ کا احساس پیدا کیا ہے۔ ایسے ماحول میں صرف تنظیمی تبدیلیوں سے ووٹ حاصل کرنا آسان نہیں ہے۔ سیاسی جماعتیں اگر واقعی سب کے دلوں پر حکمرانی کرنا چاہتی ہیں تو انہیں سب کی ترقی، سب کے لئے امن و امان اور سب کے مذہبی حقوق کا آئینی تحفظ یقینی بنانا ہوگا۔
بہر حال بی جے پی کی یہ پیش قدمی ایک طرف تو سیاسی مصلحت اور ووٹ بینک کی سوچ کو ظاہر کرتی ہے،تو دوسری طرف یہ بھی بتاتی ہے کہ پارٹی اب مسلم ووٹرز کو یکسر نظر انداز کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔چنانچہ اب سوال یہ ہے کہ آیا یہ اقدام محض الیکشن سے پہلے کی وقتی تدبیر ہے یا سوچ سمجھ کر حقیقی شمولیت کی طرف بڑھایا گیا کوئی اہم قدم؟ جواب وقت اور عملی اقدامات ہی دیں گے۔ویسے سیاسی حکمت عملی کامیاب تبھی ہوتی ہے جب وہ عوام کے اعتماد پر مبنی ہو، نہ کہ محض چند چہروں کی نمائش پر۔
********

