تاثیر 24 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
رانچی میں جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف جاری طلبہ احتجاج کے درمیان میونسپل کارپوریشن کی جانب سے20 کوچنگ اداروں کو نوٹس جاری کرنے کا معاملہ جھارکھنڈ کی سیاست میں نئی گرما گرم بحث کا باعث بن گیا ہے۔ یہ نوٹس بغیر ٹریڈ لائسنس اور فائر این او سی کے چلنے والے اداروں کے خلاف ہیں۔ کارپوریشن نے تین دن میں ضروری کاغذات مکمل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے ، ایسا نہیں کرنے پر ادارے کوسیل کرنے کی تنبیہ کی ہے۔ اس کارروائی کو بی جے پی نے ہیمنت سورن حکومت کی انتقامی کارروائی قرار دیا ہے، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ضابطے کے مطابق کی جا رہی ہے۔
رانچی میں طلبہ کا احتجاج تقریباً ایک ماہ سے جاری ہے۔ امتحانات میں مبینہ گڑبڑی کے خلاف مختلف تنظیموں نے آواز اٹھائی ہے۔ چند کوچنگ اداروں نے بھی طلبہ کے ساتھ کھل کر حمایت کی ہے۔کچھ اداروں پر الزام ہے کہ ان کے لوگوں نے مظاہروں میں شرکت کی ہے ساتھ ہی طلبہ کے مطالبات کو تقویت دی ہے۔ اسی دوران سی آئی ڈی نے کچھ کوچنگ انسٹی چیوٹ کے مالکان سے پوچھ گچھ بھی کی ہے۔ اب انہی میں سے کچھ اداروں کو نوٹس ملنے سے یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا احتجاج میں فعال کردار کی وجہ سے انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے؟ بی جے پی کا الزام ہے کہ حکومت احتجاج کو کمزور کرنے کے لئے کوچنگ اداروں پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ اس کے برعکس، جھامومو اور حکومت سے جڑے لوگوں کا کہنا ہے کہ کارروائی ضابطے کے مطابق ہو رہی ہے اور طلبہ کی حفاظت کے مدنظر کی جا رہی ہے۔
میونسپل کارپوریشن کے سروے کے مطابق رانچی میں تقریباً 1364 تجارتی تعلیمی ادارے فعال ہیں، جن میں 831 کوچنگ سینٹرز شامل ہیں۔ حیرت انگیز طور پر ان میں سے صرف 68اداروں نے ہی ٹریڈ لائسنس حاصل کیا ہے۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ شہر میں بغیر اجازت چلنے والے اداروں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ جھارکھنڈ میونسپل ایکٹ 2011 اور متعلقہ ضابطے کے تحت بغیر لائسنس کاروبار چلانا غیر قانونی ہے۔ فائر این او سی کی عدم موجودگی طلبہ کی حفاظت کے لئے سنگین خطرہ ہے۔ اس لحاظ سے کارپوریشن کا بنیادی موقف درست معلوم ہوتا ہے کہ ضابطے کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جا سکتی اور غیر قانونی ہوڈنگز ہٹانے کا حکم بھی مناسب ہے۔
تاہم، کارروائی کا وقت سوالات پیدا کرتا ہے۔ جب طلبہ کا احتجاج اپنے عروج پر ہو اور کچھ کوچنگ آپریٹرز اس کی حمایت کر رہے ہوں، تو صرف20 اداروں کو نوٹس دینا سیاسی انتقامی کارروائی کا تاثر دے سکتا ہے۔ اگر شہر میں سینکڑوں ادارے بغیر لائسنس چل رہے ہیں تو یکساں اور شفاف کارروائی کی ضرورت تھی۔ چنندہ اداروں کو نشانہ بنانے سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ احتجاج میں شریک ہونے والوں کو سزا دی جا رہی ہے۔ظاہر ہے، اس سے انتظامیہ کی غیر جانبداری پر سوال اٹھتا ہے۔ طلبہ کا احتجاج خود ایگزامنیشن سسٹم میں شفافیت کا مطالبہ کرتا ہے، جسے جمہوری حق سمجھا جانا چاہئے۔ اس میں شامل ہونے والوں کو دبانے کی کوشش احتجاج کے جائز مقاصد کو کمزور کر سکتی ہے۔
اس معاملے میں دونوں پہلوؤں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ایک طرف، کوچنگ اداروں کا بغیر قانونی اجازت چلنا نہ صرف ریونیو کا نقصان ہے بلکہ طلبہ کی حفاظت کو بھی خطرے میں ڈالتا ہے۔ دوسری طرف، کارروائی کا وقت اورچند چنندہ اداروں کے خلاف کارروائی سیاسی مقاصد سے متاثر ہونے کا شبہ پیدا کرتی ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ تمام اداروں پر یکساں قوانین نافذ کرے اور احتجاج سے منسلک افراد کو نشانہ بنانے کا تاثر دور کرے۔ بی جے پی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بھی محض الزام تراشی کے بجائے امتحان کے نظام میں در آئی بے ضابطگیوں کے اصل مسائل پر توجہ دینی چاہئے۔
طلبہ کے مطالبات کو سنجیدگی سے سننا ضروری ہے۔ امتحانات میں شفافیت اور انصاف کا قیام ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ کوچنگ اداروں پر کارروائی اگرضابطے کے مطابق ہے تو اسے شفاف طریقے سے آگے بڑھانا چاہئے، لیکن اگر یہ احتجاج کو دبانے کا ذریعہ ہے تو یہ جمہوری اصولوں کے خلاف ہوگا۔ دونوں طرف سے اعتدال کی ضرورت ہے۔ میونسپل کارپوریشن کو چاہئے کہ وہ اپنے سروے کی بنیاد پر تمام غیر قانونی اداروں کے خلاف یکساں کارروائی کرے، جبکہ حکومت کو چاہئے کہ ایگزامنیشن سسٹم کی بے ضابطگیوں کی آزادانہ تحقیقات کو یقینی بنائے۔
آخر میں، یہ معاملہ صرف نوٹس کا نہیں بلکہ جھارکھنڈ میں انتظامی شفافیت، سیاسی جوابدہی اور طلبہ کے حقوق کے درمیان توازن کا ہے۔ اگرضابطے کی پاسداری کو سیاسی انتقام سے الگ رکھا جائے اور طلبہ کے جائز مطالبات کو تسلیم کیا جائے تو یہ صورتحال مثبت رخ اختیار کر سکتی ہے۔ بصورت دیگر، یہ تنازع یقینی طور پر مزید گہرا ہوگا اور عوامی اعتماد کو متاثر کرے گا۔
*********

