تاثیر 07 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
نئی دہلی، 7 اگست: مرکزی حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے لیے غیر قانونی، مصنوعی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ مواد ہٹانے کی مدت 36 گھنٹے سے کم کرکے 3 گھنٹے کیے جانے کے فیصلے پر عام آدمی پارٹی (آپ) کے قومی کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت لوگوں کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے اور وہ ’جین زی‘ کی تحریک سے خوفزدہ ہوگئی ہے۔
کیجریوال نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کیے گئے ایک ویڈیو میں کہا کہ مرکزی حکومت نے نیا قانون نافذ کیا ہے، جس کے تحت اگر حکومت کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو کسی پوسٹ یا مواد کو ہٹانے کا قانونی نوٹس دیتی ہے تو متعلقہ پلیٹ فارم کو تین گھنٹے کے اندر اس مواد کو ہٹانا ہوگا۔کیجریوال نے کہا کہ جین زی کی تحریک کے بعد مرکزی حکومت میں خوف کا ماحول ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت جتنا لوگوں کی آواز دبانے کی کوشش کرے گی، عوام کا غصہ اتنا ہی بڑھتا جائے گا۔

