نہر میں ڈوبنے سے دو نوعمر لڑکوں کی موت، گاؤں میں سوگ کی لہر

تاثیر 07 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

نارنول، 7 اگست:ہریانہ کے نرنول ضلع کے گاؤں خاص پور کے قریب نہر میں ڈوبنے سے جاں بحق ہونے والے دونوں نوعمر لڑکوں کا جمعہ کو شہری اسپتال نارنول میں پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ پولیس نے ضروری قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد دونوں کی لاشیں ان کے اہل خانہ کے حوالے کردی ہیں۔ حادثے کے بعد پورے گاؤں میں سوگ کی لہر ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق گاؤں خاص پور کے رہنے والے تقریباً 13 سالہ کارتک اور 14 سالہ گورو جمعرات کی شام دوڑ لگانے کے لیے نہر کے کنارے پہنچے تھے۔ اسی دوران دونوں نہانے کے لیے نہر میں اتر گئے۔ نہر میں گہرے پانی اور تیز بہاؤ کی زد میں آکر دونوں نوعمر ڈوب گئے۔
قریب موجود لوگوں نے کارتک کو نہر سے باہر نکال کر فوری طور پر اسپتال پہنچایا، لیکن ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ دوسرے نوعمر گورو کی تلاش کے لیے پولیس، انتظامیہ، غوطہ خوروں اور مقامی لوگوں نے مشترکہ طور پر سرچ آپریشن شروع کیا۔ تقریباً تین گھنٹے کی کوشش کے بعد غوطہ خوروں نے گورو کی لاش نہر سے برآمد کرلی۔ دونوں بچوں کے کپڑے نہر کے کنارے سے ملے تھے۔
گاؤں کے سرپنچ دارا سنگھ نے بتایا کہ دونوں بچے گاؤں کے سرکاری اسکول میں زیر تعلیم تھے۔ ان کے خاندان مالی طور پر کمزور ہیں اور دونوں کے والد مزدوری کرکے اپنے خاندانوں کی کفالت کرتے ہیں۔