تاثیر 19 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
تہران،19اگست: ایران کے سابق صدر محمد خاتمی نے امریکہ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت کی عارضی یادداشت کو تہران کے لیے ایک غیر معمولی اور اہم موقع قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اسے ضائع کرنا ایران کو مزید سنگین مشکلات سے دوچار کر سکتا ہے۔خاتمی نے منگل کو جاری اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ یہ مفاہمت ایک ’’بے مثال‘‘ موقع ہے۔ ان کے بقول دوسری عالمی جنگ کے بعد کسی امریکی صدر کی جانب سے دستخط کی گئی کسی دستاویز میں فریقِ مقابل کو اس قدر مراعات فراہم نہیں کی گئیں۔
سابق ایرانی صدر نے کہا کہ وہ ہر ایسے اقدام کی حمایت کرتے ہیں جس کے ذریعے جنگ کا خاتمہ ہو، ایران پر عائد پابندیاں اور دیگر رکاوٹیں ختم ہوں اور ملک کے لیے بہتر مستقبل کی راہ ہموار ہو۔انہوں نے جنگ کے دوران ایران کی داخلی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غلط پروپیگنڈے اور نامناسب نعروں کے نتیجے میں عوام کی شرکت اور حمایت میں بتدریج کمی واقع ہو رہی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو واضح کیا کہ ایران کے ساتھ نہ تو اس وقت کوئی مذاکرات جاری ہیں اور نہ ہی مستقبل قریب میں مذاکرات کی کوئی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی بندرگاہوں کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی بدستور جاری رہے گی اور اسے پوری شدت کے ساتھ برقرار رکھا جائے گا۔آبنائے ہرمز کے بارے میں امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ یہ آبی گزرگاہ کھلی ہے اور معمول کے مطابق کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہاں موجود بحری بارودی سرنگیں یا تو ہٹا دی گئی ہیں یا انہیں دھماکے سے تباہ کر دیا گیا ہے۔

