تاثیر 18 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
گزشتہ 20 جولائی کو دہلی کے جنتر منتر پر طلبہ اور نوجوانوں کے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی کے الزامات نے ایک بار پھر پر امن احتجاج کے حق اور قانون و انتظام کے توازن کا سوال کھڑا کر دیا ہے۔سپریم کورٹ نے کل منگل کے روز سماعت کرتے ہوئے اس معاملے میں جو موقف اختیار کیا ہے، وہ نہ صرف معقول بلکہ انصاف کی سمت ایک اہم پیش رفت ہے۔ عدالت نے پولیس زیادتی کے الزامات کی تحقیقات کے لئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کا خیال ظاہر کیا ہے، جس میں سابق جج، سی بی آئی کے سابق ڈائریکٹر اور کسی ریاست کے سابق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس شامل ہوں گے۔ کمیٹی کو 20 جولائی کے واقعات کی ویڈیو فوٹیج اور سی سی ٹی وی ریکارڈنگ فراہم کی جائیں گی تاکہ حقائق کی شفاف جانچ ممکن ہو سکے۔ خواتین مظاہرین کو نشانہ بنائے جانے کے الزامات کی بھی جانچ کی جائے گی۔ یہ قدم اس لئے اہم ہے کہ سپریم کورٹ پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ پر امن احتجاج کا حق بھارت کے آئین کی دین ہے اور اسے کوئی چھین نہیں سکتاہے۔
دہلی پولیس نے عدالت میں حلف نامہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ 20 جولائی کو تین کلومیٹر کے علاقے میں تقریباً تیس ہزار مظاہرین جمع ہو گئے تھے۔ پانچ ہزار پولیس اہلکار تعینات تھے۔ پولیس کے مطابق مظاہرین نے متعدد سطحوں کی بیریکیڈنگ توڑ دی اور پارلیمنٹ کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی، جو پہلے سے غیر قانونی قرار دیا جا چکا تھا۔ جب بھیڑ قابو سے باہر اور پرتشدد ہو گئی تو پولیس نے مرحلہ وار طاقت کا استعمال کیا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ مقصد کسی کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ قانون و نظم برقرار رکھنا تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 20 سے 26 جولائی کے درمیان شناخت شدہ افراد میں سے کئی کا مجرمانہ ریکارڈ تھا، جن میں سنگین مقدمات کے ملزمان بھی شامل تھے۔ پولیس کی طرف سے یہ موقف سامنے آیا ہے کہ طاقت کا استعمال ضرورت سے زیادہ نہیں بلکہ حالات کے تحت مجبوری تھا۔
تاہم، مظاہرین اور درخواست گزاروں کی طرف سے پولیس زیادتی کے الزامات سنگین ہیں۔ ان الزامات میں خواتین مظاہرین کو نشانہ بنائے جانے کا ذکر بھی شامل ہے۔ ایسے میں سپریم کورٹ کا آزاد اور اعلیٰ سطحی کمیٹی کے ذریعے تحقیقات کرانے کا فیصلہ نہایت مناسب ہے۔ ویڈیو ثبوتوں کی روشنی میں کمیٹی کے نتائج دونوں فریقوں کے موقف کو جانچنے میں مدد دیں گے۔ یہ عمل نہ صرف پولیس کی جوابدہی کو یقینی بنائے گا بلکہ احتجاج کے حق کو بھی مضبوط کرے گا۔ جمہوری معاشرے میں پر امن احتجاج کا حق بنیادی ہے، مگر اس حق کے ساتھ نظم و ضبط کی ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔ اگر احتجاج پرتشدد ہو جائے تو ریاست کو قانون نافذ کرنے کا اختیار حاصل ہے، لیکن طاقت کا استعمال متناسب اور ضروری حد تک ہی ہونا چاہئے۔
اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے مقابلہ جاتی اور سرکاری بھرتی امتحانات میں پیپر لیک کے معاملے پر بھی اہم پیش رفت کی ہے۔ جج پی ایس نرسمہا اور جج آلوک آراڈھے کی بنچ نے مرکز اور تمام ریاستی حکومتوں سے جواب طلب کیا ہے۔ درخواست میں پیپر لیک میں ملوث افراد اور ان کے خاندان کی جائیداد کی جانچ اور ضبطی، مختلف قوانین کے تحت کارروائی اور سزاؤں کو لگاتار نافذ کرنے کی مانگ کی گئی ہے۔ اگلی سماعت 25 ستمبر کو ہوگی۔ یہ معاملہ طلبہ کی تشویش سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔ پیپر لیک جیسی بدعنوانی نوجوان نسل کے مستقبل کو متاثر کرتی ہے اور اسی لئے احتجاج سامنے آتے ہیں۔ عدالت کا دونوں معاملات میں متوازن رویہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ نہ صرف حقوق کے تحفظ بلکہ نظام کی شفافیت اور بدعنوانی کے خاتمے پر بھی توجہ دے رہی ہے۔
سپریم کورٹ کا یہ کردار جمہوری اداروں کی ساکھ کو مضبوط کرتا ہے۔ اعلیٰ سطحی کمیٹی کے ذریعے شفاف تحقیقات سے حقیقت سامنے آئے گی۔ اگر پولیس کی کارروائی متناسب ثابت ہوئی تو اس کی توثیق ہوگی؛ اگر زیادتی سامنے آئی تو ذمہ داروں کو جوابدہ بنایا جائے گا۔ اسی طرح یہ بھی مانا جا رہا ہے کہ پیپر لیک کے خلاف سخت قانونی فریم ورک مستقبل میں ایسے واقعات کو روکے گا۔ پر امن احتجاج کا حق اور قانون کی حکمرانی دونوں آئین کی روح ہیں۔ سپریم کورٹ کا موجودہ موقف اسی توازن کو برقرار رکھنے کی کوشش ہے، ظاہر ہے، یہ ملک کے لئے مثبت پیغام ہے۔
********

