تاثیر 13 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
بانکی پورضمنی انتخابات میں جیت کے بعد بہار کی سیاست میں پرشانت کشور کا نام ایک بار پھر مرکزی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ یہ کامیابی محض ایک انتخابی نتیجہ نہیں بلکہ اس نے ریاست کی سیاست میں نئے تانے بانے اور ممکنہ تبدیلیوں کی بحث تیز کر دی ہے۔ سیاسی حلقوں میں اب یہ سوال زور شور سے اٹھنے لگا ہے کہ بہار کی سیاست میں پرشانت کشور کا کردار کیا ہوگا، ان کی پارٹی جن سوراج کی سیاست کس سمت جائے گی، اور کیا ریاست تیسرے سیاسی محاذ کی طرف بڑھ سکتی ہے؟
پرشانت کشور نے گزشتہ چند سالوں میں بہار کی روایتی دو قطبی سیاست کو چیلنج کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ نہ تو بی جے پی کے ساتھ جائیں گے اور نہ آر جے ڈی کے۔ جن سوراج کی طرف سے بار بار یہ بات دُہرائی جاتی رہی ہے کہ پرشانت کشور کو اتحاد کی سیاست سے کوئی اصولی اعتراض نہیں ہے۔ ظاہر ہے،یہ بیان اس لئے بہت اہم ہے کیونکہ یہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ اگر حالات سازگار ہوئے تو وہ کسی تیسری قوت سے ہاتھ ملا نے پر غور کر سکتے ہیں۔ فی الحال وہ الگ تھلگ کھڑے نظر آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ کسی کے ساتھ نہیں جائیں گے، لیکن سیاسی گلیاروں میں یہ بحث گرم ہے کہ آنے والے وقت میں’’مائینس بی جے پی اور مائینس آر جے ڈی‘‘ کا فارمولا اپناتے ہوئے وہ کسی تیسری سیاسی جماعت کے ساتھ ہوکر اپنی منزل کی جانب بڑھ سکتے ہیں۔
اس پس منظر میں بہار میں تیسرے محاذ کا تصور خاص طور پر اہمیت کا حامل ہو گیا ہے۔ بہار کی سیاست طویل عرصے سے دو بڑے اتحادوں،این ڈی اے اور عظیم اتحاد کے گرد گھومتی رہی ہے۔ پرشانت کشور اگر حقیقی معنوں میں ایک آزادانہ اور مضبوط تیسری قوت بنانے میں کامیاب ہوئے تو وہ روایتی دو قطبی نظام کو کمزور کر سکتے ہیں۔ تاہم تیسرا محاذ بنانا بھی کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اس کے لئے نہ صرف تنظیمی طاقت درکار ہے بلکہ بہار کے مزاج کے مطابق، وسیع تر سماجی اور ذات پات کی سیاست کو بھی متاثر کرنے کی صلاحیت چاہئے۔ جن سوراج نے ریاست کی سیاست میں اب تک جو ماحول بنایا ہے وہ بے حد امید افزا ضرور ہے مگر ریاست بھر میں اس کا اثر ابھی محدود ہے۔ بانکی پور کی جیت نے ان کے حوصلے بلند کئے ہیں مگر ریاستی سطح پر بڑا چیلنج ابھی باقی ہے۔
ایک اور پہلو جو بحث میں بار بار سامنے آتا ہے، وہ’’دوست‘‘ کا ذکر ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک ایسے رہنما کا نام ان دنوں لوگوں کی زبان پر ہے، جنہیں پرشانت کشور اپنا دوست مانتے ہیں اور وہ بھی پرشانت کشور کو دوست کہنے میں نہیں تھکتے۔ یہ اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ ذاتی تعلقات بھی سیاست میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر یہ تعلقات مضبوط ہوئے اور حالات سازگار رہے تو ممکن ہے کہ دونوں کسی نہ کسی شکل میں ایک دوسرے کے قریب آئیں۔ تاہم سیاست میں دوستی اکثر مفاد کے تابع ہوتی ہے اور حالات بدلنے پر دوستانہ اکثر اپنا رویہ تبدیل کر لیتا ہے۔
پرشانت کشور کی سیاست کا سب سے بڑا امتحان یہ ہے کہ وہ اتحاد کی سیاست کو کتنا قبول کریں گے۔ اگر وہ سخت اصول پرستی پر اڑے رہے تو ان کا الگ راستہ رہ سکتا ہے مگر ایسے میں ان کا اثر و رسوخ محدود ہو سکتا ہے۔ اگر وہ لچک دکھائیں اور تیسرے محاذ کی بنیاد پر کسی قابل قبول اتحاد میں شامل ہوں تو ان کی اہمیت بڑھ سکتی ہے۔ ویسے بہار کی سیاست میں ووٹر اب صرف ذات اور خاندان نہیں دیکھتے بلکہ کارکردگی، ترقی اور نئے چہروں کی بھی تلاش کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پرشانت کشور نے اپنی طویل جدوجہد سے ، اس خلا کو پر کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
بہر حال آنے والے دنوں کے درمیان بہار کی سیاست میں پرشانت کشور کی سیاسی سر گرمیوں کو غور سے دیکھا جائے گا۔ بانکی پور کی جیت نے انہیں ایک نیا موقع ضرور دیا ہے، مگر اس موقع کو حقیقت میں بدلنے کے لئے انہیں واضح حکمت عملی، وسیع تر قبولیت اور ممکنہ اتحادوں کے سلسلے میں فیصلہ کرنا ہوگا۔ اگر وہ تیسرے محاذ کی طرف بڑھے اور کامیاب ہوئے تو بلا شبہ بہار کی سیاست میں ایک نیا باب کھل سکتا ہے۔ ورنہ حالات بتاتے ہیں کہ ان کی پارٹی طاقتور ہونے کے باوجود مجموعی طور پر الگ تھلگ ہوکر رہ جائے گی۔ فی الحال بحث جاری ہے اور پرشانت کشور کی اگلی چالیں ہی بتائیں گی کہ بہار کی سیاست کس سمت جائے گی۔
*******

