تاثیر 31 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
نئی دہلی، 31 اگست: سپریم کورٹ نے دہرادون کے جم چلانے والے’ محمد‘ دیپک کے خلاف درج ایف آئی آر پر ہونے والی کارروائی پر روک لگا دی ہے۔ جسٹس وکرم ناتھ نے ہائی کورٹ کے اس حکم پر بھی روک لگا دی، جس میں محمد دیپک کو ایک مسلم پھل فروش اور بجرنگ دل کے کارکنوں کے درمیان ہوئے تنازع سے متعلق سوشل میڈیا پر کوئی بھی پوسٹ کرنے سے منع کیا گیا تھا۔سماعت کے دوران محمد دیپک کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا کہ بجرنگ دل کے کارکنوں نے مسلم پھل فروش کی دکان کے نام میں ’بابا‘ لفظ کے استعمال پر اعتراض کیا تھا، جس کے بعد محمد دیپک نے معاملے میں مداخلت کی تھی۔سنگھوی کے مطابق جب بجرنگ دل کے کارکن دیپک سے الجھ پڑے اور ان کا نام پوچھا تو انہوں نے اپنا نام ’محمد‘ دیپک بتایا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ یہ واقعہ یومِ جمہوریہ کے موقع پر پیش آیا تھا اور اس کی ویڈیو بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
سینئر وکیل نے کہا کہ’ محمد‘ دیپک پھل فروش کی مدد کے لیے وہاں گئے تھے، لیکن بعد میں انہی کے خلاف ایف آئی آر درج کردی گئی۔ انہوں نے واقعے کی ویڈیو ریکارڈنگ کا حوالہ دیتے ہوئے ہائی کورٹ کے حکم کو بھی غلط قرار دیا۔سنگھوی نے کہا کہ ہائی کورٹ نے ’محمد‘ دیپک کو سوشل میڈیا پر اس معاملے سے متعلق کوئی پوسٹ کرنے سے روک دیا تھا۔ ان کے مطابق عدالت نے راحت فراہم کرنے کے بجائے انہیں مکمل طور پر خاموش رہنے کا حکم دیا تھا۔سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے’ محمد‘ دیپک کے خلاف درج ایف آئی آر پر مزید کارروائی پر روک لگا دی۔ عدالت نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے سے روکنے والے ہائی کورٹ کے حکم پر بھی روک لگا دی ہے۔

