سون ندی کے پانی کی تقسیم کے حوالے سے بہار اور جھارکھنڈ کے درمیان مفاہمت نامہ پر دستخط

تاثیر 31 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

پٹنہ، 31 اگست 2026: بہار اور جھارکھنڈ کے درمیان سون ندی کے پانی کی تقسیم کے تعلق سے گزشتہ 25 برسوں سے زیر التوا تنازع کا حل ہوگیا ہے۔ دہلی میں دونوں ریاستوں کے درمیان مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس موقع پر مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ، مرکزی وزیر برائے جل شکتی جناب سی۔ آر۔ پاٹل، بہار کے وزیر اعلیٰ جناب سمراٹ چودھری، جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ جناب ہیمنت سورین، بہار کے نائب وزیر اعلیٰ اور آبی وسائل کے وزیر جناب وجے کمار چودھری سمیت دونوں ریاستوں اور مرکزی حکومت کے اعلیٰ افسران موجود تھے۔
وزیر اعلیٰ نے اس تاریخی معاہدے کے لیے وزیر اعظم جناب نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی فعال کوششوں، مسلسل مذاکرات اور مؤثر ثالثی کے نتیجے میں برسوں سے زیر التوا اور پیچیدہ مسئلے کا حل ممکن ہوسکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف پانی کی تقسیم کا معاہدہ نہیں ہے بلکہ بہار اور جھارکھنڈ کے درمیان تعاون، اعتماد اور مشترکہ ترقی کے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سال 1973 کے بان ساگر معاہدے کے تحت سون ندی کے کل 14.25 ملین ایکڑ فٹ (ایم اے ایف) پانی میں سے مدھیہ پردیش کو 5.25 ایم اے ایف، اتر پردیش کو 1.25 ایم اے ایف اور اس وقت غیر منقسم بہار کو 7.75 ایم اے ایف پانی مختص کیا گیا تھا۔ سال 2000 میں جھارکھنڈ ریاست کے قیام کے بعد متحدہ بہار کے حصے کے 7.75ایم اے ایف پانی کی تقسیم کو لے کر دونوں ریاستوں کے درمیان تنازع پیدا ہوگیا، جو گزشتہ 25 برسوں سے زیر التوا تھا۔