تاثیر 08 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
بھاگلپور، 8 اگست:اسمارٹ سٹی منصوبہ بندی اور شہری ترقی کے دعووں کے درمیان بھاگلپور شہر میں مختلف مقامات پر پی سی سی سڑکوں اور نالوں کی تعمیر نے میونسپل کارپوریشن اور تعمیراتی ایجنسیوں کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔شہر کے بھیکھن پور علاقے (وارڈ نمبر 34) میں ترقیاتی کاموں میں تکنیکی لاپروائی کا ایک حالیہ معاملہ سامنے آیا ہے، جس سے مقامی باشندوں میں بڑے پیمانے پر ناراضگی ہے۔ لوگ اب کھل کر اس ترقیاتی کے معیار پر سوال کرنے لگے ہیں۔
مقامی لوگوں کے مطابق بھیکھن پور میں گمٹی نمبر 2 سے گمٹی نمبر 12 تک مین پی سی سی سڑک اور نالہ حال ہی میں تعمیر کی گئی تھی۔مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ مین روڈ کو مناسب تکنیکی تشخیص کے بغیر اور ڈھلوان پر غور کیے بغیر تعمیر کیا گیا تھا۔اب اس مین روڈ کی ایک گلی برہائی ٹولہ میں نالے کی تعمیر شروع ہو گئی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ جب مین نالے ڈرین کی سطح درست نہیں ہے تو برہائی ٹولہ گلی کے نالے میں پانی مزید کیسے بہے گا۔ تکنیکی طور پر غلط ڈھلوان کی وجہ سے آئندہ دنوں میں برہائی ٹولہ میں پانی جمع ہونے کا امکان ہے۔
اس تعمیراتی کام کا سب سے زیادہ اثر مقامی رہائشیوں کے گھروں پر پڑا ہے۔ بغیر کسی دور اندیشی کے، پی سی سی روڈ کو اتنا اونچا کر دیا گیا ہے کہ بھیکھن پور، برہائی ٹولہ، اور آنند باغ میں کئی گھر اب سڑک کی سطح سے کافی نیچے ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ ہلکی بارش سے بھی سڑک اور نالے کا گندہ پانی لوگوں کے گھروں اور صحنوں میں داخل ہو جاتا ہے۔ پلاننگ انجینئر اور افسران کی اس سنگین غفلت نے عام لوگوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ کھڑا کر دیا ہے۔

