!چار سالہ معصوم پر آوارہ کتوں نے کیا حملہ، بال بال بچی جان

تاثیر 25 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

بڑی کربلا میں گھر کے قریب کھیل رہے بچے کو کتوں نے بنایا نشانہ، صدر اسپتال میں علاج — شہر میں بڑھتے آوارہ کتوں کے دہشت پر سنگین سوالات
مظفرپور۔ (نزہت جہاں) نگر تھانہ حلقہ کے بڑی کربلا، وارڈ نمبر 11 میں پیر کی صبح اس وقت افراتفری مچ گئی، جب گھر کے قریب سڑک کنارے کھیل رہے چار سالہ معصوم بچے پر آوارہ کتوں نے اچانک حملہ کردیا۔ زخمی بچے کی شناخت بڑی کربلا باشندہ محمد ندیم کے چار سالہ بیٹے محمد زہید کے طور پر ہوئی ہے۔ بتایا گیا کہ محمد زہید اپنے گھر کے قریب کھیل رہا تھا، اسی دوران اچانک آوارہ کتا وہاں پہنچ گیا اور بچے پر حملہ کردیا۔ بچے کی چیخ و پکار سن کر آس پاس کے لوگ اور راہگیر فوراً موقع پر پہنچے۔ لوگوں نے لاٹھی ڈنڈوں اور شور کی مدد سے کتوں کو بھگانے کی کوشش کی، جس کے بعد کتے بچے کو چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ واقعہ کے بعد اہل خانہ زخمی بچے کو علاج کے لیے صدر اسپتال لے گئے۔ ایمرجنسی وارڈ میں ڈاکٹروں نے بچے کا علاج شروع کیا، زخموں کی صفائی کی گئی اور اینٹی ریبیز ویکسین سمیت ضروری ادویات دی گئیں۔ ابتدائی علاج کے بعد بچے کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی اور اسے اسپتال سے چھٹی دے دی گئی۔
بڑی کربلا کا یہ واقعہ مظفرپور شہر میں بڑھتے آوارہ کتوں کے مسئلے کو ایک بار پھر اجاگر کرتا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کئی گلی محلوں میں آوارہ کتوں کے غول موجود رہتے ہیں اور آئے دن لوگوں کو کتوں کے کاٹنے کے واقعات سامنے آتے ہیں۔ ایسے میں بچوں، بزرگوں اور عام راہگیروں کی حفاظت پر سنگین سوال کھڑے ہوگئے ہیں۔ سابق ضلع پریشد امیدوار نُزہت جہاں نے واقعہ پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے نگر نگم کی کارکردگی پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر شہر کی عام عوام ہی محفوظ نہیں ہے تو نگر نگم کو اپنی ذمہ داری پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’’اگر عوام محفوظ نہیں تو نگر نگم کا نام بدل کر ’نرک نگم‘ کردینا چاہیے۔‘‘ نُزہت جہاں نے نگر نگم پر مبینہ بدعنوانی اور رشوت خوری کے سنگین الزامات بھی عائد کیے اور کہا کہ شہریوں سے صفائی، پانی اور ہولڈنگ نمبر سمیت مختلف مدوں میں فیس وصول کی جاتی ہے، لیکن آوارہ کتوں کے مسئلے پر مؤثر کارروائی نظر نہیں آتی۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے اور متعلقہ افسران کا موقف سامنے آنا باقی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایک چار سالہ معصوم بچہ اپنے گھر کے قریب بھی محفوظ نہیں ہے تو شہر میں عام لوگوں کی حفاظت کا کیا ہوگا؟ مقامی لوگوں نے ضلع مجسٹریٹ مظفرپور سے معاملے کا نوٹس لے کر آوارہ کتوں کے مسئلے کے مستقل حل کے لیے نگر نگم کو ٹھوس کارروائی کی ہدایت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
سوال سیدھا ہے—ایک معصوم پر آوارہ کتوں کے غول کے حملے کے بعد بھی اگر ذمہ دار محکمہ نہیں جاگا تو آخر کب جاگے گا؟