اردو اڈہ کے فائونڈر چیئرمین ایم۔ ایف۔ فاروقی نے نئی نسل کو تاریخ کے ایک درخشاں باب سے روشناس کرایا
جالندھر، 2 اگست (مظہر): ہندوستان کی تاریخ میں بہت سی ایسی عظیم شخصیات گزری ہیں جنہوں نے اپنی بہادری، بہترین حکمتِ عملی اور مضبوط قیادت سے نہ صرف برصغیر بلکہ دنیا کی تاریخ پر بھی گہرا اثر ڈالا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ان میں سے کئی نام لوگوں کی یادوں سے دھندلے پڑ گئے۔ میسور کے عظیم حکمراں ”سلطان حیدر علی خان” بھی ایسی ہی ایک شخصیت ہیں، جنہوں نے برطانوی سامراج کے خلاف زبردست مزاحمت کی۔ ان کی جدوجہد کا اثر صرف ہندوستان تک محدود نہیں رہا بلکہ امریکی جنگِ آزادی تک محسوس کیا گیا۔
ان خیالات کا اظہار اردو اڈہ کے فانڈر چیئرمین اور پنجاب کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس اے ڈی جی پی ایم۔ ایف۔ فاروقی(آئی پی ایس) نے اپنے یوٹیوب چینل پر جاری ایک خصوصی خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ کے کئی ایسے روشن ابواب ہیں جنہیں آج کی نسل تک صحیح تناظر میں پہنچانے کی ضرورت ہے۔ اگر کسی طالبِ علمِ تاریخ سے یہ سوال کیا جائے کہ وہ کون سا ہندوستانی حکمراں تھا جس کی بہادری اور برطانوی اقتدار کے خلاف کامیاب مزاحمت نے امریکی انقلابیوں کو بھی متاثر کیا، تو اس کا جواب بلا تردد سلطان حیدر علی خان ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اٹھارویں صدی میں جب برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستان میں اپنے قدم مضبوط کر رہی تھی، اس وقت میسور کے فرمانروا سلطان حیدر علی نے انگریزوں کے خلاف ایک ایسی منظم اور طاقتور مزاحمت کی قیادت کی جس نے برطانوی منصوبوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ ان کی عسکری ذہانت، غیرمعمولی جنگی حکمتِ عملی اور بے خوف قیادت نے انہیں اپنے عہد کے ممتاز ترین سپہ سالاروں میں شامل کر دیا۔
ایم۔ ایف۔ فاروقی نے کہا کہ 1780 کی دوسری اینگلو-میسور جنگ میں سلطان حیدر علی کی افواج نے برطانوی فوج کو ایسی تاریخی شکست دی جس نے پورے یورپ کو حیران کر دیا۔ یہ وہ وقت تھا جب دنیا میں برطانوی سلطنت کی طاقت کا چرچا تھا، لیکن میسور کی سرزمین پر انگریزوں کی ناکامی نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر قیادت مضبوط اور عزم پختہ ہو تو دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت کو بھی شکست دی جا سکتی ہے۔ یہی وہ پیغام تھا جس نے امریکی انقلابیوں کے حوصلے بلند کیے اور ان کی جدوجہد میں نئی روح پھونک دی۔
انہوں نے بتایا کہ اس زمانے میں برطانیہ ایک ہی وقت میں مختلف محاذوں پر جنگیں لڑ رہا تھا۔ ہندوستان میں سلطان حیدر علی کی قیادت میں جاری سخت مزاحمت نے برطانوی حکومت کو مجبور کر دیا کہ وہ اپنی فوج، اسلحہ، مالی وسائل اور عسکری توجہ کا بڑا حصہ ہندوستان کی طرف منتقل کرے۔ اس کے نتیجے میں شمالی امریکہ میں برطانوی دبائو نسبتاًکم ہوا، جس سے امریکی انقلابیوں کو اپنی جنگِ آزادی کو مزید مثر انداز میں آگے بڑھانے کا موقع ملا۔
ایم۔ ایف۔ فاروقی نے کہا کہ تاریخ کے مستند حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکی عوام اور انقلابی قیادت بھی سلطان حیدر علی کی بہادری کی معترف تھی۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں 1782 میں ریاست پنسلوانیا کی اسمبلی نے اپنے ایک جنگی جہاز کا نام “Hyder Ally” رکھا ، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایک ہندوستانی سپہ سالار کی شہرت برصغیر کی سرحدوں سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ 1781 میں برطانوی جنرل لارڈ کارنوالس کی شکست اور یارک ٹان میں ہتھیار ڈالنے کے بعد امریکہ میں منعقد ہونے والی تقریبات میں سلطان حیدر علی کی فتوحات کے نام پر خصوصی جامِ تہنیت پیش کیے گئے۔ یہ اعزاز اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکی انقلابی انہیں برطانوی استعمار کے خلاف مزاحمت کی ایک طاقتور علامت تصور کرتے تھے۔
ایم۔ ایف۔ فاروقی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمارے تعلیمی اور سماجی حلقوں میں سلطان حیدر علی کا نام اس انداز میں نہیں لیا جاتا جس کے وہ حقیقی طور پر مستحق ہیں۔ ان کے فرزند ٹیپو سلطان کو تو کسی حد تک یاد کیا جاتا ہے، لیکن یہ حقیقت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے کہ برطانوی سامراج کے خلاف منظم مزاحمت کی مضبوط بنیاد خود سلطان حیدر علی نے رکھی تھی۔
انہوں نے کہا کہ تاریخ کا انصاف یہی ہے کہ قومیں اپنے محسنوں اور قومی ہیروز کو فراموش نہ کریں۔ جن شخصیات نے آزادی، خودمختاری اور قومی وقار کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیں، انہیں نئی نسل کے سامنے مثالی کردار کے طور پر پیش کیا جانا چاہیے تاکہ نوجوان اپنی تاریخ سے آگاہ ہوں اور اپنے ماضی پر بجا طور پر فخر کر سکیں۔
اپنے خطاب کے اختتام پر ایم۔ ایف۔ فاروقی نے کہا کہ سلطان حیدر علی ایک ایسے عظیم سپہ سالار تھے جنہیں میدانِ جنگ میں دشمن کبھی شکست نہ دے سکا۔ وہ اپنی بہادری، بصیرت اور غیرمتزلزل عزم کے باعث ہمیشہ تاریخ کے سنہرے صفحات میں زندہ رہیں گے۔ اگرچہ وہ زندگی کے فطری انجام یعنی موت سے مغلوب ہوئے، لیکن ان کی جدوجہد، قومی حمیت اور برطانوی استعمار کے خلاف مزاحمت آج بھی آزادی پسند اقوام کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان کی حقیقی اور غیرجانبدار تاریخ کو نئی نسل تک پہنچانا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے، کیونکہ جو قومیں اپنے ہیروز کو فراموش کر دیتی ہیں، وہ اپنی تاریخی شناخت بھی کھو بیٹھتی ہیں۔ سلطان حیدر علی کی شخصیت اس بات کی روشن مثال ہے کہ عزم، شجاعت اور حب الوطنی کی طاقت تاریخ کا دھارا بدل سکتی ہے۔

