تیجسوی پرساد یادو نے محمد فیض کے اہل خانہ سے کی ملاقات

تاثیر 21 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

دربھنگہ(فضاامام): بہار اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف اور راشٹریہ جنتا دل کے سینئر رہنما تیجسوی پرساد یادو نے جمعرات کی شب دربھنگہ کے پرانی منصفی پہنچ کر مقتول محمد فیض احمد کے اہل خانہ سے تقریباً ایک گھنٹے تک ملاقات کی۔ انہوں نے اہل خانہ سے واقعہ کی تفصیلات اور اب تک ہونے والی کارروائی کے بارے میں باریک بینی سے معلومات حاصل کیں اور سوگوار خاندان کو انصاف کی جدوجہد میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔تیجسوی پرساد یادو کے ہمراہ سابق مرکزی وزیر مملکت برائے فروغِ انسانی وسائل، حکومتِ ہند محمد علی اشرف فاطمی، راشٹریہ جنتا دل کے سینئر رہنما عبدالباری صدیقی، بہادرپور کے سابق رکنِ اسمبلی بھولا یادو، سابق رکنِ اسمبلی ڈاکٹر فراج فاطمی، للت یادو، سمستی پور کے سابق رکنِ اسمبلی شاہین، راشٹریہ جنتا دل یوتھ کے صدر راکیش نایک، امان اللہ خان امن، ممتاز عالم ایڈووکیٹ، جاوید انور، دیدار حسین چاند، راجا انصاری سمیت بڑی تعداد میں مقامی باشندے موجود تھے۔ملاقات کے دوران محمد فیض کے والد محمد اسد احمد نے قائد حزبِ اختلاف کو ایک تفصیلی تحریری یادداشت پیش کی۔ یادداشت میں قتل کے معاملے کی اعلیٰ سطحی تفتیش کرانے، واقعہ میں ملوث دیگر مشتبہ افراد کی گرفتاری، مبینہ سازش میں شامل تمام افراد کا سراغ لگانے اور قصورواروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔شوروم میں فیض احمد کے قتل کا واقع :ہاہل خانہ کی جانب سے پیش کی گئی یادداشت کے مطابق محمد فیض احمد یاماہا ملینیم شوروم، چندن پٹی میں منتظم کے عہدے پر کام کرتے تھے۔ 12 جون 2026 کو شام تقریباً 5 بج کر 5 منٹ پر اہل خانہ کو اطلاع ملی کہ شوروم کے اندر فیض احمد کو قتل کر دیا گیا ہے۔ اطلاع ملنے کے بعد ان کے چھوٹے بھائی سیف احمد اپنے چچا شفیع احمد کے ساتھ شوروم پہنچے، جہاں فیض احمد کو کرسی پر مردہ حالت میں پایا گیا۔ ان کے سر اور گردن پر شدید زخم تھے۔اہل خانہ کے مطابق شوروم میں نصب نگرانی کے کیمروں کی ریکارڈنگ میں ایک شخص کو گلابی رنگ کی قمیص پہنے ہوئے فیض احمد کے سر پر شور سے حملہ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس کے بعد گردن پر بھی تیز دھار آلے سے حملہ کیا گیا۔ واردات کے بعد مذکورہ شخص شوروم کے باہر کھڑی فیض احمد کی اسکوٹی اور ان کا موبائل فون لے کر فرار ہوگیا۔یادداشت میں بتایا گیا ہے کہ تفتیش کے دوران مذکورہ شخص کی شناخت سونو کمار پاسوان، ولد اوپیندر پاسوان، ساکن چھپکی پڑی، تھانہ صدر، ضلع دربھنگہ کے طور پر ہوئی، جسے پولیس نے گرفتار کرکے عدالتی تحویل میں بھیج دیا۔ تاہم مقتول کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ واقعہ کے پس پردہ مزید افراد کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق شوروم کے سامنے نصب کیمروں اور دیگر مقامات پر موجود نگرانی کیمروں کی ریکارڈنگ کا باریک بینی سے جائزہ لینے پر واقعہ سے متعلق مزید اہم معلومات سامنے آسکتی ہیں۔محمد اسد احمد نے قائد حزبِ اختلاف کو بتایا کہ واقعہ کے بعد وہ متعدد مرتبہ اعلیٰ پولیس حکام اور ضلعی انتظامیہ سے معاملے کی مؤثر تفتیش کی درخواست کرچکے ہیں۔ یادداشت کے مطابق 17 جون کو پولیس کے اعلیٰ حکام اور متعلقہ اداروں، یکم جولائی کو سینئر پولیس افسر اور 6 جولائی کو پولیس نائب عظمیٰ، سینئر پولیس افسر اور ضلع مجسٹریٹ کے دفتر میں بھی اس سلسلے میں درخواستیں دی گئی تھیں، تاہم اہل خانہ کے مطابق اب تک ان کی شکایات پر مطلوبہ کارروائی نہیں ہوئی ہے۔اہل خانہ نے یہ بھی بتایا کہ محمد فیض کے قتل کا معاملہ 22 جولائی کو اسمبلی میں رکنِ اسمبلی اخترالاسلام نے اٹھایا تھا، جبکہ 23 جولائی کو قانون ساز کونسل میں عبدالباری صدیقی نے بھی اس معاملے پر اپنی بات رکھی تھی۔ اس کے باوجود مقتول کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں اب تک مکمل انصاف نہیں مل سکا ہے۔

محمد اسد احمد نے اپنی یادداشت میں کہا ہے کہ نوجوان بیٹے کے قتل کے بعد پورا خاندان شدید صدمے اور خوف میں مبتلا ہے۔ انہوں نے تیجسوی پرساد یادو سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کو وزیرِ اعلیٰ تک پہنچائیں اور خاندان کو انصاف دلانے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ واقعہ کی مکمل حقیقت سامنے لانے کے لیے ضروری ہے کہ تفتیش صرف گرفتار شخص تک محدود نہ رہے بلکہ اس قتل کے پیچھے موجود تمام ممکنہ افراد اور مبینہ سازش کاروں کا بھی سراغ لگایا جائے۔ اہل خانہ نے اس سلسلے میں نگرانی کیمروں کی تمام متعلقہ ریکارڈنگ کی باریک بینی سے جانچ اور شواہد کی بنیاد پر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔محمد اسد احمد کی جانب سے پیش کی گئی یادداشت میں چار اہم مطالبات شامل ہیں۔ ان میں قتل کے معاملے کی اعلیٰ سطحی تفتیش، جرائم کی تفتیش کرنے والے خصوصی شعبے سے جانچ، مقدمے کی جلد سماعت کراکے قصورواروں کو سخت سزا دلانے اور متاثرہ خاندان کو 50 لاکھ روپے مالی امداد کے ساتھ ایک سرکاری ملازمت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ملاقات کے بعد تیجسوی پرساد یادو نے اہل خانہ کو یقین دلایا کہ معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور انصاف کی جدوجہد میں خاندان کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ انہوں نے اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کے حکام سے بھی بات چیت کی اور معاملے کی پیش رفت کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔محمد فیض کے قتل کے دو ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اہل خانہ کی جانب سے دیگر مشتبہ افراد کی گرفتاری اور واقعہ کے پس پردہ مبینہ سازش میں شامل تمام لوگوں کا سراغ لگانے کا مطالبہ مسلسل جاری ہے۔ پرانی منصفی کے باشندوں میں بھی اس واقعہ کو لے کر تشویش پائی جاتی ہے۔ اہل خانہ اور مقامی باشندوں کو امید ہے کہ قائد حزبِ اختلاف کی مداخلت سے معاملے کی تفتیش میں تیزی آئے گی، تمام حقائق سامنے آئیں گے اور مقتول کے خاندان کو جلد انصاف مل سکے گا۔