سو خاندانوں کے مکان بنانے کے لیے سامان کی خریداری اور بانس مہیا کرانے کا عمل جاری
شیو ساگر، آسام، 11 اگست
آسام میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں سینکڑوں مکانات اور ان میں موجود گھریلو سامان مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے۔ سیلاب متاثرین کی راحت رسانی، ضروریات کی تکمیل اور بازآبادکاری کے لیے امارت شرعیہ کی جانب سے گزشتہ کئی دنوں سے بڑے پیمانے پر امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ امارت شرعیہ کے علماء اور ذمہ داران آسام کے مختلف متاثرہ علاقوں میں قیام کرکے حالات کا جائزہ لینے، متاثرین کی ضروریات معلوم کرنے اور ان تک مطلوبہ سامان پہنچانے میں مصروف ہیں۔
حضرت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ امیر شریعت بہاراڈیشہ ،جھارکھنڈ ومغربی بنگال کی ہدایت اور ناظم اعلیٰ امارت شرعیہ بہار،اڈیشہ ،جھارکھنڈ ومغربی بنگال جناب مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی کے ایماپر امارت شرعیہ کی امدادی ٹیم روزانہ کی بنیاد پر راحت رسانی کا کام انجام دے رہی ہے۔ مختلف علاقوں میں متاثرین کے درمیان ضروری اور بنیادی اشیاء کی تقسیم پہلے ہی عمل میں آچکی ہے، جبکہ اب ان خاندانوں کی ضروریات پوری کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے جن کے مکانات اور گھریلو سامان سیلاب میں مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں۔
متاثرین کی بڑی تعداد کو پلنگ، بستر اور دیگر ضروری گھریلو سامان کی فوری ضرورت ہے۔ اس ضرورت کو دیکھتے ہوئے امارت شرعیہ کی جانب سے لوہے کے پلنگ اور گدے بڑی تعداد میں آرڈر دے کر تیار کروائے جا رہے ہیں، تاکہ متاثرہ خاندانوں کو دوبارہ زندگی کے بنیادی وسائل فراہم کیے جاسکیں۔
اسی طرح جن لوگوں کے مکانات مکمل طور پر پانی کی نذر ہوگئے ہیں، ان کی بازآبادکاری کے لیے بھی امارت شرعیہ کی جانب سے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں بڑے پیمانے پر دیہی علاقوں سے بانس کی کٹائی کا کام جاری ہے، جبکہ تین سُکیا اور جوڑہاٹ سمیت مختلف شہروں سے ٹِن شیڈ کی خریداری کا عمل بھی جاری ہے۔ ان سامانوں کے ذریعے متاثرین کے لیے عارضی اور قابلِ رہائش ڈھانچے تیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
امارت شرعیہ کی جانب سے آسام کے سیلاب متاثرین کے لیے یہ امدادی اور بازآبادکاری کا کام نمایاں طور پر انجام دیا جا رہا ہے، جس پر قابل ذکر اخراجات بھی آرہے ہیں۔ امارت شرعیہ نے اہلِ خیر اور صاحب استطاعت افراد سے درد مندانہ اپیل کی ہے کہ وہ اس مشکل گھڑی میں آسام کے سیلاب متاثرین کی مدد اور بازآبادکاری کے اس مشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، تاکہ زیادہ سے زیادہ متاثرہ خاندانوں کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے میں مدد مل سکے۔
اس وقت امارت شرعیہ کی امدادی سرگرمیوں کی قیادت جناب مولانا احمد حسین قاسمی مدنی، معاون ناظم امارت شرعیہ کر رہے ہیں۔ ان کے ساتھ امارت شرعیہ کی جانب سے جناب مفتی صابر حسین قاسمی، مولانا شعیب عالم قاسمی اور مولانا رفیع احمد ندوی سمیت مبلغین امارت شرعیہ امدادی کاموں میں سرگرم ہیں۔ علاوہ ازیں مفتی عبدالقدوس مظاہری، جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے استاد مولانا وجیہ الرحمن مظاہری، مولانا اسامہ رحمانی اورجامعہ رحمانی کے متعدد علماءبھی امدادی ٹیم کے ساتھ خدمات انجام دے رہے ہیں۔
آسام میں امارت شرعیہ کی ٹیم کو مقامی سطح پر تعاون اور رہنمائی بھی حاصل ہو رہی ہے۔ شیو ساگر کے ناظرہ حلقہ کے نوجوانوں نے امارت شرعیہ کی امدادی ٹیم کی میزبانی اور دیگر ضروری انتظامات میں تعاون کرتے ہوئے متاثرین کی خدمت کے اس عمل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
امارت شرعیہ کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی مستقل بازآبادکاری کی ضرورت بھی پیشِ نظر ہے۔ اسی لیے امدادی سرگرمیوں کو محض راشن اور بنیادی اشیاء کی تقسیم تک محدود رکھنے کے بجائے رہائش اور گھریلو ضروریات کی فراہمی تک وسعت دی جا رہی ہے۔امارت شرعیہ اہل خیر سے اپیل کرتی ہے کہ وہ دل کھول کر تعاون کریں اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے متاثرین بے سہارا خاندانوں کا سہارا بنیں تاکہ وہ اپنے بکھرے ہوئے گھروں اور زندگیوں کو دوبارہ آباد کرسکیں۔

