باگمتی کا قہر: کٹرا میں زمینداری باندھ ٹوٹا، کئی گاؤں زیرِ آب

تاثیر 09 اگست ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

گائگھاٹ میں سڑکیں بنی دریا، کئی مقامات پر رابطہ منقطع؛ گھروں میں داخل ہوا سیلابی پانی، عوام میں خوف و ہراس
مظفرپور۔( نزہت جہاں)
ضلع میں باگمتی ندی کی سطحِ آب میں مسلسل اضافے کے باعث سیلاب کی صورتحال سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ کٹرا بلاک کی بس گھٹہ پنچایت میں زمینداری باندھ ٹوٹنے کے بعد کئی گاؤں میں سیلابی پانی داخل ہوگیا ہے۔ وہیں گائگھاٹ بلاک کی کانٹا پیروچھا جنوبی پنچایت سمیت مچھواڑا، رام نگر، جانتا اور آس پاس کے کئی گاؤں بھی زیرِ آب آگئے ہیں۔ بڑھتی ہوئی سطحِ آب نے ہنومان نگر سے پوسا جانے والی دیہی سڑک کو بھی اپنی زد میں لے لیا ہے۔ سڑک پر کئی فٹ پانی بہہ رہا ہے۔ تیز بہاؤ کے سبب کئی مقامات پر سڑک کٹ گئی ہے، جس سے آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ کانٹا ملائی گاندھی چوک سے پہلے سڑک کا رابطہ منقطع ہونے سے مقامی لوگوں کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں
گائگھاٹ علاقے کے کئی گاؤں میں سیلابی پانی داخل ہونے سے معمولاتِ زندگی درہم برہم ہوگئے ہیں۔ مقامی لوگوں کے سامنے آمد و رفت کے ساتھ ساتھ خوراک، پینے کے پانی اور محفوظ رہائش کا مسئلہ بھی پیدا ہونے لگا ہے۔ تیز بہاؤ کے درمیان لوگ ضروری کاموں کے لیے جان خطرے میں ڈال کر آمد و رفت کرنے پر مجبور ہیں۔ مقامی باشندے روپیش کمار نے بتایا کہ گزشتہ دو دنوں سے صورتحال مسلسل بگڑ رہی ہے۔ باگمتی ندی میں طغیانی کے باعث کئی سڑکوں پر پانی چڑھ گیا ہے، جبکہ متعدد مقامات پر سڑک بہہ گئی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ انتظامیہ کی جانب سے اب تک سڑک کی مرمت یا مناسب راحت رسانی کا کام شروع نہیں کیا گیا ہے۔
مقامی باشندے نے بتایا کہ گائگھاٹ علاقے میں حالات مسلسل خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ کئی مقامات پر سڑکیں ٹوٹ چکی ہیں اور گھروں میں سیلابی پانی داخل ہوگیا ہے۔ اس کے باعث لوگوں کے رہنے، کھانے پینے اور روزمرہ کی ضروریات بھی متاثر ہوئی ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر باگمتی ندی کی سطحِ آب میں اسی طرح اضافہ جاری رہا تو آنے والے دنوں میں صورتحال مزید سنگین ہوسکتی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر راحت رسانی، محفوظ آمد و رفت اور تباہ شدہ سڑکوں کی مرمت کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے۔