اتر پردیش کے سہارنپور میں مسجد کے انہدام کے بعد 20 فٹ گہرا کنواں ملا ، محکمہ آثار قدیمہ سے جانچ کی تیاری

تاثیر 06 ستمبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

سہارنپور، 6 ستمبر: اتر پردیش کے سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں مسجد کے انہدام کے 24 گھنٹے سے زیادہ وقت گزرنے کے بعد ملبہ ہٹانے کے دوران تقریباً 20 فٹ گہرا اور ڈیڑھ میٹر چوڑا کنواں دریافت ہوا ہے۔ یہ کنواں ایک بھاری سلیب کے نیچے ملا۔ سلیب کو پوکلینڈ مشین سے ہٹانے میں کامیابی نہیں ملی تو اسے کٹر کی مدد سے کاٹ کر ہٹایا گیا، جس کے بعد نیچے کنواں نظر آیا۔
کنویں کی تعمیر کے حوالے سے فی الحال کوئی سرکاری معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔ انتظامیہ نے اس معاملے کی اطلاع متعلقہ حکام کو دے دی ہے۔ کنویں کی نوعیت اور تاریخی اہمیت کی جانچ کے لیے ہندوستانی محکمہ آثارِ قدیمہ (اے ایس آئی) کو اطلاع دیے جانے کا امکان ہے۔ اے ایس آئی کی جانچ کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ کنواں کتنا پرانا ہے اور اس کی تاریخی اہمیت کیا ہے۔
مسجد ہٹانے کی درخواست دینے والے بجرنگ دل کے سابق صوبائی کنوینر وکاس تیاگی نے کنواں ملنے کے بعد اسے اپنے سابقہ دعوے سے جوڑتے ہوئے اے ایس آئی سے جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم، صرف کنواں ملنے سے کسی قدیم مذہبی مقام کے وجود کی تصدیق نہیں ہوتی۔ اس کی اصل صورتحال ماہرین کی جانچ کے بعد ہی واضح ہوگی۔
دوسری جانب، انہدام کے بعد علاقے میں سکیورٹی انتظامات سخت ہیں۔ مسجد کے مقام کے چاروں طرف بیریکیڈنگ کرکے پولیس فورس تعینات کی گئی ہے اور عام لوگوں کی آمدورفت پر پابندی عائد ہے۔ انتظامیہ کی نگرانی میں ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے۔