تاثیر 16 ستمبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
نئی دہلی، 16 ستمبر: بحیرہ عرب کے شمالی حصے میں بھارتی بحریہ کے ایک فرنٹ لائن جنگی جہاز اور ایک پاکستانی جہاز کے درمیان ٹکر کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان سمندری محاذ پر ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ یہ معاملہ اس لیے سنگین ہے کیونکہ بین الاقوامی پانیوں میں دونوں ممالک کے جنگی جہازوں کے درمیان محفوظ فاصلے اور آپریشن سے متعلق پہلے سے ہی ایک معاہدہ موجود ہے۔ تاہم، عوامی طور پر دونوں جہازوں کے نام اور ٹکر کی درست جگہ جیسی تکنیکی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں، لیکن اس واقعے کو سنگین کوتاہی قرار دیا جا رہا ہے۔
بھارتی بحریہ کا فرنٹ لائن جنگی جہاز 15 ستمبر کی شام بحیرہ? عرب کے شمالی حصے میں معمول کے نگرانی مشن پر تھا۔ اسی دوران پاکستانی بحریہ کا ایک جہاز تیز رفتاری سے بھارتی جنگی جہاز کے قریب آیا اور اس سے ٹکرا گیا۔ اگرچہ اس ٹکر میں کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ہے، تاہم پاکستانی جہاز کی اس حرکت کو غیر محفوظ اور غیر پیشہ ورانہ قرار دیا گیا ہے۔ دونوں جہازوں کے درمیان مناسب فاصلہ برقرار نہیں رہ سکا اور بالآخر ان کی ٹکر ہو گئی۔ فی الحال عوامی طور پر دونوں جہازوں کے نام اور ٹکر کی درست جگہ جیسی تکنیکی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔

