بھارتی بھاشا سماگم نے ترقی یافتہ بھارت کی بنیاد رکھی، عالمی نالج اکانومی بنے گا بھارت

تاثیر 13 ستمبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

وارانسی، 13 ستمبر:کشمیر سے کنیا کماری تک پھیلی ہوئی بھارتی زبانوں کی دنیا جتنی متنوع اور مالا مال ہے، اتنا ہی وسیع ترقی یافتہ بھارت کے امکانات کا افق بھی ہے۔ بھارتی زبانیں محض اظہار اور ابلاغ کا ذریعہ نہیں بلکہ ہزاروں برس سے محفوظ علم، فلسفے، سائنس، ادب، فنون، لوک روایات اور طرزِ زندگی کی امین بھی ہیں۔ ان زبانوں میں محفوظ علم کو جدید تعلیم، تحقیق، ٹیکنالوجی اور اختراع سے جوڑ کر بھارت کی علمی طاقت کو نئی بلندی دی جا سکتی ہے۔
دنیا کے قدیم زندہ شہروں میں شمار ہونے والے کاشی میں اتوار کو بھارتی زبانوں کی اسی صلاحیت کی ایک عظیم تصویر دیکھنے کو ملی۔ مہاتما گاندھی کاشی ودیا پیٹھ کے گاندھی اسٹڈی چیئر آڈیٹوریم میں کثیر لسانی خبر رساں ایجنسی ’ہندوستھان سماچار‘ کی جانب سے ’بھارتی علم کی روایت، علاقائی زبانیں اور خوشحال بھارت‘ کے موضوع پر بھارتی بھاشا سماگم -2026 کا انعقاد کیا گیا۔ اجلاس میں بھارتی زبانوں کی متنوع علمی روایات کو ترقی یافتہ بھارت کے عزم سے جوڑنے اور عالمی نالج اکانومی میں بھارت کے کردار کو مزید مضبوط بنانے پر غور کیا گیا۔