بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے برکس اعلامیہ کو سفارتی کامیابی قرار دیا

تاثیر 13 ستمبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

لکھنؤ، 13 ستمبر:بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی قومی صدر اور اتر پردیش کی سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی نے نئی دہلی میں منعقدہ 18ویں برکس سربراہ اجلاس کے دوران جاری کیے گئے ’نئی دہلی اعلامیہ‘ کو اہم سفارتی کامیابی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین اور ایران کے حوالے سے امریکی پالیسیوں، بڑھتی عالمی کشیدگی، تنازعات اور تجارتی محصولات کے باعث پیدا ہونے والے معاشی بحران کے درمیان برکس ممالک کا 140 پیراگراف پر مشتمل اعلامیہ اتفاقِ رائے سے جاری ہونا باہمی سمجھ بوجھ اور سفارتی بصیرت کا مظہر ہے۔
اتوار کو لکھنؤ میں منعقدہ پریس کانفرنس میں مایاوتی نے کہا کہ برکس ممالک کے درمیان باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش امید افزا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برکس کرنسی کی ترقی کی سمت میں آگے بڑھنا بھی ایک اہم قدم ثابت ہوسکتا ہے۔
فلسطین کے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے بی ایس پی سربراہ نے کہا کہ دو ریاستی حل اور 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت کے ساتھ دہشت گردی سے ہر سطح پر نمٹنے کا عزم اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلگام کا ذکر کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف ظاہر کیے گئے عزم سے بھارت کے موقف کو مناسب حمایت ملی ہے، جو قابل تعریف ہے۔
چین کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے مایاوتی نے کہا کہ دونوں ممالک کو اپنے اختلافات کو تنازع میں تبدیل کرنے سے گریز کرنا چاہیے اور ایک دوسرے کو ترقی میں شراکت دار سمجھ کر آگے بڑھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس نقط? نظر کے نتائج آنے والے وقت میں سامنے آئیں گے۔ ساتھ ہی دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازع کا جلد حل ہونا بھی مناسب ہوگا۔