تاثیر 11 ستمبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
نئی دہلی، 11 ستمبر: وزیر خارجہ ایس. جے شنکر نے جمعہ کو کہا کہ موجودہ وقت میں عالمی سیاسی اور اقتصادی نظام افراتفری، عدم استحکام اور پیچیدگیوں سے گزر رہا ہے۔ جغرافیائی سیاسی تنازعات، وبائی امراض اور موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے اقتصادی اثرات کے درمیان لچک اب کسی بھی ملک کی اقتصادی حکمت عملی کا ایک مرکزی عنصر بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے دور میں اختراع، پائیدار ترقی اور مضبوط بین الاقوامی شراکت داری کے ساتھ ساتھ اقتصادی جھٹکوں سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ضروری ہے۔برکس تجارتی فورم سے خطاب کرتے ہوئے جے شنکر نے کہا کہ تیزی سے ہونے والی ڈیجیٹلائزیشن اور تکنیکی ترقی نے ترقی، پیداواریت اور اقتصادی توسیع کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں، لیکن ان کے ساتھ نئے خطرات بھی سامنے آئے ہیں۔ اس لیے ممالک کو بدلتے ہوئے حالات کا اندازہ لگانے، ان کے مطابق خود کو ڈھالنے اور مؤثر طریقے سے ردِعمل کی صلاحیت پیدا کرنا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں برکس کا کردار اہم ہو جاتا ہے۔

