قتل معاملے میں سمجھوتے کے دباؤ کی سازش، اغوا کا ڈرامہ رچا کر 17 سالہ نوجوان کو بنایا مہرہ

تاثیر 04 ستمبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

  سنگھواڑہ دربھنگہ( محمد مصطفٰی)سنگھواڑہ تھانہ علاقہ کے راجو گاؤں سے 17 سالہ روشن کمار سہنی کے مبینہ اغوا کے معاملے کا پولیس نے انکشاف کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق نوجوان کے اغوا کی واردات ایک سازش کا حصہ تھی۔ قتل کے ایک پرانے معاملے میں سمجھوتہ کرانے کے لیے دباؤ بنانے کے مقصد سے مبینہ اغوا کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔پولیس کے مطابق 3 ستمبر 2026 کو راجو گاؤں کی رہنے والی ارمیلا دیوی نے سنگھواڑہ تھانہ انچارج کو اطلاع دی کہ ان کے بیٹے روشن کمار سہنی کو اغوا کر لیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان کے بڑے بیٹے کے موبائل فون پر ایک ویڈیو بھیجی گئی، جس میں روشن کے ساتھ کچھ نامعلوم افراد مارپیٹ کرتے ہوئے اسے جان سے مارنے کی دھمکی دے رہے تھے۔ اطلاع ملتے ہی سنگھواڑہ پولیس نے معاملے کی اطلاع اعلیٰ پولیس افسران کو دی اور ایف آئی آر درج کرکے نوجوان کی بازیابی کے لیے کارروائی شروع کر دی۔ سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس جگو ناتھ ریڈی جلا ریڈی کی ہدایت پر دربھنگہ ضلع کی تکنیکی ٹیم کو سنگھواڑہ بھیجا گیا۔ انسانی ذرائع سے حاصل معلومات اور تکنیکی تحقیق کی بنیاد پر پولیس ٹیم نے مدھوبنی اور مظفرپور اضلاع میں مسلسل چھاپہ ماری شروع کی۔ پولیس دباؤ کے بعد نوجوان کو ملزم پنیشلہ چوک پر چھوڑ کر فرار ہوگئے ایس ڈی پی او صدر-02 ایس کے سمن کی قیادت میں تشکیل دی گئی خصوصی ٹیم نے تکنیکی ٹیم کی مدد سے رات بھر مختلف ٹھکانوں پر چھاپہ ماری کی۔ پولیس کی مسلسل کارروائی سے دباؤ میں آئے ملزمان نے مبینہ طور پر روشن کمار کو موٹر سائیکل سے سنگھواڑہ تھانہ علاقہ کے پنیشلہ چوک پر لاکر چھوڑ دیا۔ جسکے بعد گشتی ٹیم نے نوجوان کو اپنی تحویل میں لے کر تھانہ پہنچایا۔بازیابی کے بعد نوجوان کا طبی معائنہ کرایا گیا اور پولیس نے اس سے پوچھ گچھ کی۔ پولیس کے مطابق پوچھ گچھ میں یہ بات سامنے آئی کہ پورا معاملہ سنگھواڑہ تھانہ مقدمہ نمبر 192/26، بتاریخ 18 جون 2026 سے متعلق قتل کے معاملے میں سمجھوتہ کرانے کے لیے رچا گیا تھا۔پولیس کے مطابق مذکورہ قتل معاملے کے ایف آئی آر نامزد ملزم دیپک سہنی کی منصوبہ بندی کے تحت راکیش سہنی، سمن پاسوان، للن اور سونو کمار کے ساتھ روشن کمار بھی مبینہ سازش میں شامل تھا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ قتل کے معاملے کے مدعی اور گواہوں پر سمجھوتے کے لیے غیر اخلاقی دباؤ بنانے کے مقصد سے اغوا کا مقدمہ درج کرانے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔پولیس نے بازیاب نوجوان کا بیان عدالت میں درج کرانے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ انسانی ذرائع اور تکنیکی تحقیق سے سامنے آئے حقائق کی بنیاد پر معاملے میں مزید کارروائی کی جائے گی۔چھاپہ ماری ٹیم میں شامل افسران تکنیکی ٹیم کے انچارج امرت ساہ، سنگھواڑہ تھانہ انچارج بسنت کمار، سمری تھانہ انچارج اروند کمار، داروغہ کملیش کمار مشرا، دلیپ کمار، نلیش کمار، برہمدیو داس، اے ایس آئی نولیش کمار، پی ٹی سی مکیش کمار سمیت سنگھواڑہ تھانہ کی فورس اور تکنیکی ٹیم شامل تھی