!…. بیٹیاں تو پورے سماج کی ہیں

تاثیر 21 ستمبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

بہار کے ضلع جموئی میں ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ سڑک پر ہونے والی بدسلوکی کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد نہ صرف ریاست بلکہ پورے ملک میں بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ یہ واقعہ 19 ستمبر کی شام کا ہے۔رپورٹ کے مطابق ایک نابالغ لڑکی اور ایک لڑکا دونوں کوچنگ انسٹی چیوٹ سے اپنے گھر لوٹ رہے تھے۔ مڑوا پہاڑ کے پاس چند نوجوانوں نے انہیں روک لیا۔ انھوں  نے لڑکی کے ساتھ چھیڑخانی کی اور لڑکے کے ساتھ مارپیٹ۔ ویڈیو میں لڑکی ہاتھ جوڑ جوڑ کر جانے دینےکی التجا کرتی نظر آتی ہے، مگر شرپسند عناصر بے خوف لڑکی کے ساتھ بدسلوکی کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے کارروائی شروع کی اور چند ملزمان کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔ اس واقعے نے سیاسی محاذ پر بھی گرما گرم بحث چھیڑ دی۔ راہل گاندھی نے بہار حکومت سے سوال کیا کہ شام سات بجے سڑک پر ایک لڑکی محفوظ کیوں نہیں؟  راشٹریہ جنتا دل کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے بہار کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔ دوسری طرف سرکاری حلقوں نے کارروائی کا یقین دلاتے ہوئے کہا ہے کہ ایک واقعے کی بنیاد پر پوری ریاست کو جنگل راج نہیں کہا جا سکتا۔کچھ نیتا قسم کے لوگوں کا سوال ہے کہ ریاست میں 2005 کے پہلے کیاہو رہا تھا؟
یہ سب بیانات درست ہیں، مگر صرف حکومت کو کوسنا کافی نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسی وارداتیں محض انتظامی ناکامی نہیں بلکہ سماجی بگاڑ کی علامت ہیں۔ جب کوئی لڑکی سڑک پر غنڈوں کے سامنے ہاتھ جوڑتی ہے اور لوگ تماشائی بن کر کھڑے رہتے ہیں، تو یہ صرف پولیس کی ناکامی نہیں، پورے معاشرے کی ناکامی ہے۔ ہماری بہنیں اور بیٹیاں، خواہ وہ کسی بھی مذہب یا فرقے سے تعلق رکھتی ہوں، ہمارے سماج کی بیٹیاں ہیں۔ ان کی حفاظت صرف حکومت کا فرض نہیں، بلکہ ہر باشعور شہری، ہر محلے والے اور ہر سول سوسائٹی کی ذمہ داری ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ معاشرے کو بہتر بنانے کی ذمہ داری جن لوگوں پر ہے، وہ آہستہ آہستہ گھروں میں بند ہونے لگے ہیں۔ اچھے لوگ مصلحت کے خول میں چھپ گئے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ اگر بولیں گے تو خود الجھن میں پڑ جائیں گے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ شرپسند عناصر کھلے عام دندناتے پھر رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ زیادہ تر لوگ خاموش رہیں گے، ویڈیو وائرل ہونے تک کوئی سامنے نہیں آئے گا، اور پھر سیاسی الزام تراشی شروع ہو جائے گی۔در اصل ، اسی مصلحت آمیز بلکہ یوں کہیں کہ مجرمانہ خاموشی نے ان عناصر کو ہمت دی ہے۔ایک اور خطرناک رجحان یہ ہے کہ بہنوں اور بیٹیوں کے ساتھ زیادتیوں کو بھی دھرم اور مذہب کی عینک سے دیکھا جانے لگا ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ فلاں طبقے کے لڑکے ہیں، کبھی مذہبی رنگ دے کر بحث کو موڑ دیا جاتا ہے۔ حالانکہ جرم جرم ہے، اس کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ جب ہم کسی واردات کو مذہبی یا طبقاتی عینک سے دیکھتے ہیں تو اصل مسئلہ پسِ پشت چلا جاتا ہے اور مجرم کو بچنے کا موقع مل جاتا ہے۔
جموئی کا یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خواتین کی حفاظت صرف قانون کا نہیں ہے۔یہ سماجی ضمیر کا بھی معاملہ ہے۔ اگر محلے والے، راستے سےگزرنے والے اور دیگر چشم دید گواہ خاموش رہیں گے تو پولیس کتنی ہی کارروائی کر لے، ایسی وارداتیں نہیں رکیں گی۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ قانون نافذ کرے، ملزمان کو پکڑے اور انصاف دلائے۔ مگر سماج کی ذمہ داری اس سے کہیں بڑی ہے۔ جب تک اچھے لوگ مصلحت کے خول سے باہر نہیں نکلیں گے، جب تک ہر شہری یہ محسوس نہیں کرے گا کہ سڑک پر کھڑی لڑکی اس کی اپنی بیٹی ہے، تب تک صورتحال نہیں بدلے گی۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب بیدار ہوں۔ محلے کی سطح پر نگرانی کے نظام کو مضبوط کیا جائے، نوجوانوں میں احترام کی تعلیم دی جائے اور خواتین کے خلاف جرائم پر فوری سماجی ردِ عمل ظاہر کیا جائے۔ سول سوسائٹیز اور ذمہ دار افراد کو آگے آنا ہوگا۔ صرف سیاسی بیان بازی سے کام نہیں چلے گا۔ بیٹیاں سب کی ہیں، ان کی حفاظت سب کی ذمہ داری ہے۔ جب تک یہ احساس عام نہیں ہوگا، جموئی جیسے واقعات مسلسل دہرا ئے جاتے رہیں گے۔
*******