یوکرین میں نیٹو فوجیوں کی تعیناتی کا مطلب روس کے ساتھ براہِ راست جنگ ہے: پوتن

تاثیر 12 ستمبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی/ماسکو، 12 ستمبر: روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین میں نیٹو کے یورپی رکن ممالک کے فوجیوں کی ممکنہ تعیناتی کے حوالے سے سخت انتباہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یورپی نیٹو ممالک یوکرین میں اپنی فوج بھیجتے ہیں تو اسے روس کے ساتھ براہِ راست فوجی تصادم تصور کیا جائے گا۔ پوتن نے یہ بیان جمعہ کو نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دیا۔
روس کے بین الاقوامی نیوز ٹیلی ویژن نیٹ ورک ’رشیا ٹوڈے‘ (آر ٹی) کے مطابق پوتن نے کہا کہ روس یورپی ممالک کو دھمکی نہیں دے رہا اور نہ ہی ایسا کرنے کا اس کا کوئی منصوبہ ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ یوکرین میں یورپی نیٹو ممالک کی فوجی موجودگی اس تنازع کو روس اور مغرب کے درمیان براہِ راست تصادم میں تبدیل کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض یورپی ممالک یوکرین میں فوج بھیجنے پر غور کر رہے ہیں۔ روس پہلے بھی واضح کر چکا ہے کہ سکیورٹی ضمانت یا امن مشن کے نام پر نیٹو ممالک کی یوکرین میں فوجی تعیناتی قابلِ قبول نہیں ہوگی۔