تاثیر 05 ستمبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
رائے پور، 5 ستمبر:چھتیس گڑھ پبلک سروس کمیشن (سی جی پی ایس سی) بھرتی گھوٹالہ میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے منی لانڈرنگ اور’کیش سنڈیکیٹ’ تحقیقات کے سلسلے میں کل دیر رات 30 لوگوں کو نوٹس جاری کر انہیں پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا۔
مرکزی ملزم اتکرش چندراکر کی گرفتاری کے بعد، ای ڈی کے رائے پور زونل آفس نے مبینہ کیش سنڈیکیٹ کا پتہ لگانے کے لئے مشکوک امیدواروں، این جی او، ایک بڑی کمپنی اور ریزورٹ آپریٹرز کو پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، ای ڈی نے اس نیٹ ورک کی کڑیاں جوڑنے کے لئے خاص طور پر 16سے زیادہ ایسے لوگوں کو طلب کیا تھا جو براہ راست طور پر امیدوار، بعض مقامی تاجروں یا پراپرٹی ڈیلرہیں۔ اس کے فوراً بعد جب ای ڈی نے ’’کیش سنڈیکیٹ‘‘ اور منی لانڈرنگ کی تفصیلی تحقیقات شروع کی، تواس دائرہ کار کو بڑھا دیا گیا ۔ اب اس میں تقریباً 30 افراد شامل ہیں۔
غور طلب ہے کہ معاملے کے ایک اہم بچولیے کوچنگ آپریٹر اتکرش چندراکر کو یکم ستمبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر ملازمت دلانے کے نام پر 3 کروڑ روپے سے زیادہ کی خورد برد اور اپنے سیاسی اثر و رسوخ کا استعمال کرنے کا الزام ہے۔ وہ فی الحال 5 ستمبر تک ای ڈی کی حراست میں ہے، جس سے ہوئی پوچھ گچھ کی بنیاد پر یہ نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔
تحقیقاتی ایجنسی اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ امتحانات کے لیک سوالیہ پرچوں کو تقسیم کرنے کے بدلے جو کروڑوں روپے نقد وصول کئے گئے تھے ، انہیں کون سے بینکنگ چینلز، سی ایس آر فنڈز یا شیل کمپنیوں سے سفید یا ٹرانسفر کیا گیا۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اتکرش چندراکر اور ڈاکٹر وکاس چندراکر نے امیدواروں سے امتحان پاس کرانے میں مدد کرنے کا دعویٰ کرکے 3 کروڑ روپے سے زیادہ وصول کیے۔ اس میں سے تقریباً 2.80 کروڑ روپے مہاسمدڈ کے ڈاکٹر انل چندراکر کو منتقل کیے گئے۔

