مدھیہ پردیش کےگاؤں کو آتم نربھر بنانے پر زور ، پانچ سالہ منصوبے سے بدلے گی تصویر

تاثیر 14 ستمبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

بھوپال، 14 ستمبر: دیہاتوں میں مویشی پروری محض ایک روایت نہیں بلکہ آمدنی کا ایک مضبوط ذریعہ ہے۔ کھیت میں کیمیائی کھادوں پر انحصار کم کیا گیا اور قدرتی کاشتکاری کو فروغ دیا گیا۔ گھروں تک پانی پہنچنا چاہیے، گلیوں میں کنکریٹ کے نالے ہونے چاہئیں، رات کو سولر لائٹس ہونی چاہئیں اور گاؤں کے نوجوانوں کو روزگار کے لیے روزانہ شہر نہیں بھاگنا چاہیے۔ گاؤں میں دودھ کا ذخیرہ ہونا چاہیے، چھوٹی صنعتیں چلنی چاہئیں اور خواتین کے پاس بھی کمائی کے اپنے ذرائع ہونے چاہئیں۔
مدھیہ پردیش حکومت کی مکھیہ منتری ورنداون گرام یوجنا اس خیال کو عملی جامہ پہنانے کی ایک کوشش ہے۔ اس اسکیم کا مقصد صرف کسی گاؤں میں سڑکیں، نالے یا عمارتیں بنانا نہیں ہے، بلکہ اسے ایک ایسا گاؤں بنانا ہے جو مقامی وسائل اور مقامی روزگار سے اپنی ضروریات کا بڑا حصہ پورا کر سکے۔ حکومت نے 2025 میں اس منصوبے کی منظوری دی۔