تاثیر 01 ستمبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
سہسرام ( انجم ایڈوکیٹ ) ڈہری کے قریب اندرپوری بارہان میں اراضی رجسٹریشن کے نام پر دھوکہ دہی اور احتجاج کرنے پر مارپیٹ اور دھمکیوں کا الزام لگاتے ہوئے ایک متاثرہ نے پولس سپرنٹنڈنٹ روہتاس کی عوامی عدالت میں درخواست دائر کی ہے جسمیں انصاف کی مانگ کی گئی ہے ۔ متاثرہ کا الزام ہے کہ اس معاملے میں سابقہ ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود پولس کی جانب سے کوئی موثر کارروائی نہیں کی گئی ۔ عوامی عدالت میں پولس سپرنٹنڈنٹ نے معاملے کی جانچ کی اور مناسب کارروائی کا یقین دلایا ۔ درخواست کے مطابق متاثرہ مدن موہن مالویہ عرف مدن موہن پانڈے جو اندرپوری بارہان تھانہ علاقہ کے رہنے والے ہیں، نے الزام لگایا ہے کہ 2010 میں میرے جاننے والے مہادیو پانڈے اور اس کے بیٹے اوم پرکاش پانڈے عرف اجیت پانڈے نے میرے بیٹے کی تعلیم اور دیکھ بھال کا وعدہ کیا تھا، متاثرہ شخص کے مطابق موضع بارہان میں واقع کھاتہ نمبر 57، کھیسرہ نمبر 76 میں تقریباً 74.5 اعشاریہ 5 اعشاریہ رقبہ اراضی میرے بیٹے کے نام رجسٹر تھا، جسے مبینہ طور پر سہسرام لے جایا گیا اور ایک دستاویز پر دستخط کرنے کے لئے مجبور کیا گیا ۔ اپنی محدود تعلیم کی وجہ سے وہ دستاویز کے مندرجات کو سمجھنے سے قاصر تھا ۔ متاثرہ کا الزام ہے کہ اسے بعد میں معلوم ہوا کہ یہ زمین جو مبینہ طور پر اس کے بیٹے کامکھیا نارائن کے نام پر رجسٹرڈ تھی، اوم پرکاش پانڈے عرف اجیت پانڈے کے بیٹے بدری نارائن کے نام پر دھوکہ دہی سے رجسٹرڈ کی گئی ۔ الزام ہے کہ 21 اگست کو جب متاثرہ اور اس کے اہل خانہ معاملے کے بارے میں پوچھنے گئے تو انکے ساتھ بدسلوکی اور مارپیٹ کی گئی ۔ متاثرہ نے بتایا کہ اندرپوری پولس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کرائی گئی تھی لیکن آج تک نہ تو مناسب تفتیش ہوئی اور نہ ہی کوئی ٹھوس کارروائی کی گئی ۔ متاثرہ خاندان کا یہ بھی الزام ہے کہ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد سے انھیں مخالف فریق کی طرف سے مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں جس سے خاندان میں خوف کی فضا پیدا ہو گئی ہے ۔ اس معاملے کے تعلق سے متاثرہ نے روہتاس سپرنٹنڈنٹ آف پولس کی عوامی عدالت میں ایک درخواست جمع کرائی ہے، جسمیں غیر جانبدارانہ تحقیقات، ملزم کے خلاف کارروائی اور خاندان کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ پولس سپرنٹنڈنٹ نے درخواست کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات اور ضروری کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے مگر دیکھنا باقی ہے کہ آگے کیا ہوتا ہے ۔

