تاثیر 21 ستمبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
کولکاتا، 21 ستمبر:گنگا کے پانی کے اشتراک پر ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان 12 دسمبر 1996 کو دستخط شدہ فرکا آبی معاہدہ اس سال دسمبر میں ختم ہونے والا ہے۔ بہار اور مغربی بنگال نے معاہدے کی تجدید سے پہلے مرکزی حکومت کے سامنے اپنے اپنے مفادات اور خدشات کو پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔
بہار میں جے ڈی (یو) اسی شکل میں موجودہ معاہدے کے ساتھ آگے بڑھنے کے بجائے ریاست کی مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک نئے انتظام اور سائنسی جائزے کا مطالبہ کر رہی ہے، وہیں مغربی بنگال حکومت نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی نئے انتظام میں ریاست کے مفادات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔مغربی بنگال حکومت نے بنیادی طور پر خشک موسم کے دوران دریائے ہگلی میں پانی کے مناسب بہاؤ کو برقرار رکھنے کا معاملہ مرکز کے ساتھ اٹھایا ہے۔
ریاست کا موقف ہے کہ فرکا سے کافی پانی ہگلی تک پہنچنا چاہیے کیونکہ اس کا براہ راست تعلق ہگلی کی بحری نقل و حرکت اور کولکاتا میں واقع شیاما پرساد مکھرجی بندرگاہ کے آپریشن سے ہے۔ جب پانی کا بہاؤ کم ہوتا ہے تو گاد اور بحری مسائل ریاست کی بندرگاہ، تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔

