تاثیر 16 ستمبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
اللہ تعالیٰ نے سعودی عرب کو تیل کے بعد ایک اور عظیم خزانہ عطا فرمایا ہے، جو جدید ٹیکنالوجی کی دنیا میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ ابھی حال ہی میں سعودی عرب کے وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی جنرل کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ مدینہ کے علاقے جبل سید میں تقریباً ایک سو دس ملین ٹن ایسا خام مال دریافت ہوا ہے، جس میں نایاب زمین کے عناصر (Rare Earth Elements) اور یورینیم وافر مقدار میں موجود ہیں۔ یہ دریافت محض ایک معدنی ذخیرہ نہیں بلکہ عالمی معیشت اور جیو پولیٹکس کے توازن کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
نایاب زمین کے عناصر جدید ٹیکنالوجی کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ یہ وہ دھاتیں ہیں، جو اسمارٹ فونز، الیکٹرک گاڑیوں، ونڈ ٹربائنز، فوجی آلات اور جدید الیکٹرانکس کی تیاری میں ناگزیر ہیں۔ سعودی عرب کے نئے ذخائر میں خاص طور پر ڈسپروسیم اور ٹربیم کی بڑی مقدار موجود ہے، جو انتہائی نایاب اور قیمتی ہیں۔ مرکز برائے اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (سی ایس آئی ایس) کے تجزیے کے مطابق جبل سید کے ذخائر میں تقریباً پانچ لاکھ باون ہزار ٹن بھاری نایاب عناصر اور تین لاکھ پچپن ہزار ٹن ہلکے نایاب عناصر شامل ہیں، جو اسے دنیا کے چوتھے سب سے بڑے نایاب زمین کے ذخائر میں شمار کراتے ہیں۔ سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق نومبر 2025 تک سعودی عرب میں نایاب زمین کے عناصر کی دریافتوں کی مالیت ایک سو ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی، جو 2018 کے مقابلے میں نوے فیصد اضافہ ہے۔
فی الحال دنیا بھر میں نایاب زمین کے عناصر کی کان کنی کا تقریباً ستر فیصد اور ان کی پروسیسنگ کا نوے فیصد چین کے کنٹرول میں ہے۔ یہ اجارہ داری چین کو عالمی سپلائی چین پر غیر معمولی اثر و رسوخ دیتی ہے اور مغربی ممالک کے لئے ایک اسٹریٹجک کمزوری کا باعث بنی ہوئی ہے۔ سعودی عرب کی یہ بڑی دریافت چین کی اس اجارہ داری کو توڑنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ سعودی عرب پہلے ہی امریکی کمپنی ایم پی میٹیریئلس کے ساتھ مل کر خطے کی پہلی نایاب زمین ریفائنری بنانے کے معاہدے پر دستخط کر چکا ہے۔ یہ دستخط نومبر 2025 میں ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ سعودی کمپنی ماڈن نے کریٹیکل میٹلز کارپوریشن کے ساتھ بھی جوائنٹ وینچر کا اعلان کیا ہے۔ ان اقدامات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب محض خام مال برآمد کرنے والا ملک نہیں بننا چاہتا بلکہ پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کے ذریعے عالمی سپلائی چین کا اہم حصہ بننا چاہتا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ سپر پاور کا درجہ حاصل کرنے کے لئے صرف معدنی ذخائر کافی نہیں ہوتے۔ اس کے لئے معاشی استحکام، فوجی طاقت، سفارتی اثر و رسوخ اور ٹیکنالوجیکل صلاحیتیں بھی ضروری ہیں۔ سعودی عرب ان تمام میدانوں میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ وژن 2030 کے تحت مملکت نے معیشت کو تیل پر انحصار سے نکال کر متنوع بنانے کا عزم کیا ہے اور معدنیات اس حکمت عملی کا مرکزی ستون ہیں۔ سعودی حکام کا اندازہ ہے کہ مملکت میں تقریباً ڈھائی ٹریلین ڈالر کی غیر ترقی یافتہ معدنی دولت موجود ہے، جس میں سونا، تانبا، فاسفیٹ، باکسائٹ اور نایاب زمین کے عناصر شامل ہیں۔ سعودی آرامکو، جو دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی ہے، اب تانبے اور نایاب زمین کے عناصر کی تلاش میں ایک لاکھ بیاسی ہزار مربع کلومیٹر کے علاقے میں مہم چلا رہی ہے۔
تاہم سعودی عرب کو سپر پاور کہنا ابھی قبل از وقت ہے۔ سپر پاور کے لئے فوجی، تکنیکی، ثقافتی اور اقتصادی برتری درکار ہوتی ہے، جو امریکہ اور چین کے پاس ہے۔ سعودی عرب اب بھی تیل کی قیمتوں پر انحصار کرتا ہے، ویژن 2030 کے کچھ بڑے منصوبے زیر غور ہیں مگر علاقائی عدم استحکام چیلنج بنا ہوا ہے۔ دوسری جانب چین کی معدنی اجارہ داری آہستہ آہستہ ضرور کمزور پڑ رہی ہے مگر ختم نہیں ہوئی ہے۔ سعودی عرب کی تبدیلی قابلِ تعریف ہے مگر سپر پاور کا درجہ حاصل کرنے میں وقت درکار ہے۔ البتہ سعودی عرب کا مکمل سپر پاور بننا اس بات پر انحصار کرتا ہے کہ وہ کتنی تیزی سے اپنی پروسیسنگ صلاحیتیں تعمیر کرتا ہے اور عالمی منڈیوں میں اپنی موجودگی مضبوط کرتا ہے۔
***********************

