تاثیر 03 ستمبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
امریکہ نے ایران کے خلاف سخت ترین اقتصادی پابندیاں مسلط کر رکھی ہیں۔اس کے باوجود ایران کے موجودہ اقتدار پران کا کوئی واضح اثر نہیں نظر آ رہا ہے۔ امریکی انتظامیہ کو امید تھی کہ معاشی دباؤ سے ایرانی عوام میں حکومت کے خلاف غصہ بھڑکے گا اور بڑے پیمانے پر احتجاج کرتے ہوئے لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ تاہم امریکی خفیہ اطلاعات کے مطابق ابھی تک ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں، جس سے ایسا لگے کہ ایرانی عوام بڑی تعداد میں سڑکوں پر اتر کر اپنے رہنماؤں کو اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہوں۔ظاہر ہے یہ حقیقت نہ صرف امریکی حکمت عملی کی ناکامی کو بے نقاب کرتی ہے بلکہ ایران کی قومی مزاحمت اور استحکام کی طاقت کا بھی احساس دلا رہی ہے۔
امریکہ نے ایران کی معیشت کو کمزور کرنے کے لئے مسلسل دباؤ بڑھایا ہے۔ اس کا اثر عام لوگوں پر ضرور پڑا ہے۔ مہنگائی تیزی سے بڑھی ہے، روزمرہ کی اشیاء کے دام ہر ہفتے چڑھ رہے ہیں اور ریال کی قدر میں شدید گراوٹ آئی ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خود معاشی مشکلات کا اعتراف کرتے ہوئے چند دنوں قبل کہا تھا کہ ملک معاشی، فوجی اور سیکیورٹی محاذ پر ایک بڑی جنگ کا سامنا کر رہا ہے۔ امریکی حکام بھی جانتے ہیں کہ نئی پابندیوں کا سب سے زیادہ نقصان عام ایرانیوں کو پہنچے گا، پھر بھی ٹرمپ انتظامیہ اسی حکمت عملی پر گامزن ہے۔ مقصد واضح ہے: معیشت کو مزید برباد کر کے عوام میں بغاوت کی آگ بھڑکانا۔
لیکن حقیقت اس امید کے برعکس ہے۔ دہائیوں سے مغربی پابندیوں کے باوجود ایرانی حکومت نے اپنی گرفت مضبوط رکھی ہے۔ اس سال کے آغاز میں ہونے والے بڑے احتجاجات کو بھی سخت کارروائی سے کچل دیا گیا، جو اسلامی جمہوریہ کی تاریخ کی سخت ترین کارروائیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی بحران گروپ کے ایرانی امور کے تجزیہ کار حمیدرضا عزیزی کے مطابق ایرانی قیادت امریکی حکمت عملی کو اچھی طرح سمجھتی ہے۔ وہ معاشی دباؤ کو الگ تھلگ کارروائی نہیں بلکہ ایک وسیع تر منصوبے کا حصہ سمجھتی ہے، جس کا مقصد اندرونی عدم اطمینان پیدا کرنا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے جب پوچھا گیا کہ کیا امریکہ خفیہ طور پر ان ایرانیوں کو ہتھیار دے سکتا ہے، جو حکومت کو ہٹانا چاہتے ہیں، تو انہوں نے براہ راست جواب دینے سے گریز کیا۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ایرانی عوام بڑی تعداد میں سڑکوں پر کیوں نہیں نکل رہے ہیں اور کہا کہ وہ ان کی مشکلات سمجھتے ہیں۔ یہ اعتراف خود امریکی ناکامی کی تصدیق ہے۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے اور بعد میں امریکہ کو خفیہ طور پر یہی رپورٹ ملی تھی کہ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی سے بھی ایران میں اقتدار کی تبدیلی کے امکانات کم ہیں۔چنانچہ کئی ماہ بعد بھی ایرانی حکومت مستحکم ہے۔
ایران کی یہ مزاحمت محض حکومت کی طاقت کا نتیجہ نہیں بلکہ قومی شعور اور تاریخی تجربے کا ثمرہ ہے۔ ایرانی عوام پابندیوں کی تلخی کو اچھی طرح جانتے ہیں، مگر وہ اپنی قومی آزادی اور خودمختاری کو معاشی مشکلات سے زیادہ قیمتی سمجھتے ہیں۔ مغربی دباؤ نے انہیں متحد کیا ہے نہ کہ تقسیم۔ یہی وجہ ہے کہ سخت معاشی بحران کے باوجود اب تک بڑے پیمانے پر حکومت مخالف تحریک نہیں اٹھی ہے۔
امریکی حکمت عملی کی بنیادی کمزوری یہ ہے کہ وہ معاشی دباؤ کو سیاسی تبدیلی کا واحد آلہ سمجھتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایران نے پچھلی کئی دہائیوں میں اس قسم کے دباؤ کو نہ صرف برداشت کیا ہےبلکہ ان نا مساعد حالات میں بھی اپنی داخلی صلاحیتوں کو فروغ دیا ہے۔ اب بھی ایرانی قیادت اس حقیقت سے واقف ہے کہ امریکہ کا مقصد صرف معاشی کمزوری نہیں بلکہ اندرونی انتشار ہے۔ اسلئے وہ عوام کو اس منصوبے سے آگاہ رکھتے ہوئے قومی اتحاد کو ترجیح دے رہی ہے۔
بہر حال ماہرین کا بھی ماننا ہے کہ امریکی پابندیاں نہ صرف انسانی سطح پر ظالمانہ ہیں بلکہ ان کا سیاسی مقصد بھی ناکام ثابت ہو رہا ہے۔ ایران کی موجودہ صورتحال یہ ثابت کرتی ہے کہ ایک قوم جب اپنی آزادی اور خودمختاری کے لئے متحد ہو جائے تو بیرونی دباؤ اسے توڑ نہیں سکتا۔ امریکی انتظامیہ کو اپنی اس ناکام حکمت عملی پر نظرثانی کرنی چاہئے، کیونکہ ایران کی قومی مزاحمت ایک ایسی حقیقت بن چکی ہے، جواب ایک کھلی کتاب کی طرح پوری دنیا کے سامنے ہے۔

