تاثیر 03 ستمبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
دربھنگہ(فضاامام):دربھنگہ شہر کے بڑا بازار واقع گاندھی چوک پر بابائے قوم مہاتما گاندھی کے مجسمے کی ناک، مجسمے کے اوپر نصب لوہے کی چھتری اور ٹائلس میں گزشتہ شب بعض سماج دشمن عناصر کی جانب سے توڑ پھوڑ کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی دربھنگہ ضلع کانگریس کمیٹی اربن کے ضلعی صدر ڈاکٹر جمال حسن کانگریسی ساتھیوں کے ہمراہ موقع پر پہنچے اور صورتحال کا جائزہ لیا۔اس موقع پر ڈاکٹر جمال حسن نے واقعہ پر گہرے دکھ اور غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بابائے قوم مہاتما گاندھی کے مجسمے کے ساتھ اس طرح کی توڑ پھوڑ انتہائی افسوسناک، قابل مذمت اور شرمناک ہے۔ مہاتما گاندھی کسی ایک سیاسی جماعت کے نہیں بلکہ پورے ملک کی عظیم وراثت ہیں۔ انہوں نے سچائی، عدم تشدد، محبت اور بھائی چارے کے راستے پر چلتے ہوئے ملک کی آزادی کی تحریک کی قیادت کی۔انہوں نے کہا کہ ایسی نفرت انگیز ذہنیت رکھنے والے سماج دشمن عناصر کو کسی بھی صورت میں بخشا نہیں جانا چاہیے۔ واقعہ کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے، یہ تحقیقات کا موضوع ہے۔ انتظامیہ بغیر کسی تعصب کے معاملے کی منصفانہ جانچ کرے، خاطیوں کی شناخت کرے اور ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی یقینی بنائے۔ڈاکٹر جمال حسن نے ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ واقعہ میں ملوث تمام افراد کی فوری شناخت کرکے انہیں گرفتار کیا جائے۔ ساتھ ہی دربھنگہ شہر میں عظیم شخصیات کے تمام مجسموں اور تاریخی مقامات کی حفاظت کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں، تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کو روکا جا سکے اور کسی بھی واقعہ میں خاطیوں کی فوری شناخت ممکن ہو۔انہوں نے کہا کہ گاندھی جی کے مجسمے کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے، لیکن ان کے سچ، عدم تشدد اور بھائی چارے کے نظریات کو کبھی ختم نہیں کیا جا سکتا۔ انتظامیہ اس واقعہ کو سنجیدگی سے لے اور خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کرے، تاکہ آئندہ کوئی بھی سماج دشمن عنصر عظیم شخصیات کے احترام کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی جرأت نہ کرسکے۔ڈاکٹر جمال حسن نے واضح طور پر کہا کہ اگر خاطیوں کے خلاف جلد کارروائی نہیں کی گئی اور عظیم شخصیات کے مجسموں کی حفاظت یقینی نہیں بنائی گئی تو دربھنگہ ضلع کانگریس کمیٹی اربن مہاتما گاندھی کے احترام اور خاطیوں کی گرفتاری کے مطالبے کو لے کر جمہوری طریقے سے تحریک چلانے پر مجبور ہوگی۔اس موقع پر احسان صدیقی، پرنس پرویز، حسمت انصاری، انصار حسن، مکیش کمار، نسیم احمد سمیت کانگریس کے کارکنان موجود تھے۔

