تاثیر27 اکتوبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
سنگھواڑہ دربھنگہ (محمد مصطفٰی)بہار میں مکمل شراب بندی کے باوجود گلی محلوں میں شراب کی غیر قانونی خرید و فروخت کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔ دیر رات تک نشے کی حالت میں ہنگامہ آرائی سے پریشان نگر پنچایت سنگھواڑہ کے بیدار نوجوانوں اور دیہی باشندوں نے نشہ خوری اور شراب نوشی کے خلاف پُرامن دھرنا و مظاہرہ کیا۔مظاہرین کا الزام ہے کہ محلے میں بعض افراد دیر رات تک ہنگامہ کرتے ہیں، جس سے عام لوگوں کے سکون اور تحفظ پر اثر پڑتا ہے۔ مظاہرین نے شراب کی غیر قانونی خرید و فروخت پر سختی سے روک لگانے اور ہنگامہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
موقع پر نگر پنچایت کے چیف کونسلر پریم بھگت، ڈپٹی چیف کونسلر دیپو سنہا، کٹاسا پنچایت کے مکھیا رمیش بھگت سمیت کئی عوامی نمائندے موجود تھے۔وہیں، مظاہرے کے دوران شرپسند عناصر کی شناخت کرکے سماجی سطح پر بانڈ بھرواۓ جانے کی بات بھی سامنے آئی۔ بتایا گیا کہ ثبوتوں کی بنیاد پر قصوروار پائے جانے والوں پر 51 ہزار روپے تک جرمانہ عائد کرنے کی بات کہی گئی ہے۔مظاہرین نے انتظامیہ سے سوال کیا کہ جب بہار میں مکمل شراب بندی نافذ ہے تو شراب کی غیر قانونی خرید و فروخت کے الزامات بار بار کیوں سامنے آ رہے ہیں اگر انتظامیہ کو اس کی اطلاع ہے تو اب تک کارروائی کیوں نہیں کی گئی اب دیکھنا یہ ہے کہ پولیس اور انتظامیہ صرف یقین دہانی تک محدود رہتی ہے یا غیر قانونی شراب کاروبار کرنے والوں اور محلے میں ہنگامہ آرائی کرنے والوں کے خلاف ٹھوس کارروائی بھی کرتی ہے

