تاثیر5 اکتوبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
دربھنگہ (فضا امام): دربھنگہ میونسپل کارپوریشن کی جانب سے سرکاری عمارتوں سے ہولڈنگ ٹیکس کی وصولی کا معاملہ توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ میونسپل کارپوریشن کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ریاستی اور مرکزی حکومت کی مختلف عمارتوں پر ہولڈنگ ٹیکس کی مد میں ایک ارب 19 کروڑ روپے سے زائد کی رقم بقایا ہے۔ وہیں مالی سال 2026-27 میں اب تک صرف 3.97 لاکھ روپے کی وصولی ہو سکی ہے۔میونسپل کارپوریشن کے اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ بقایا یونیورسٹی اور کالجوں کی عمارتوں پر ہے، جہاں تقریباً 68 کروڑ 28 لاکھ روپے بقایا درج ہےاس کے علاوہ دیگر سرکاری عمارتوں پر تقریباً 45 کروڑ روپے، مرکزی حکومت کی عمارتوں پر 3 کروڑ 86 لاکھ روپے، اعلیٰ تعلیمی اداروں کی عمارتوں پر تقریباً 1 کروڑ 44 لاکھ 37 ہزار روپے اور پرائمری و مڈل اسکولوں کی عمارتوں پر 62 لاکھ روپے بقایا ہے۔ دستاویزات کے مطابق مالی سال 2026-27 میں اب تک 3,97,020 روپے کی وصولی درج کی گئی ہے۔میونسپل کارپوریشن کے اعداد و شمار کے مطابق یونیورسٹی اور کالجوں کی عمارتوں پر سب سے زیادہ ہولڈنگ ٹیکس بقایا ہے۔ اس کے بعد دیگر سرکاری عمارتوں کا نمبر آتا ہے۔ مرکزی حکومت کی عمارتوں پر بھی کروڑوں روپے کی رقم واجب الادا ہے۔میونسپل کارپوریشن کے ڈپٹی میونسپل کمشنر ڈاکٹر جے چند اکیلا نے بتایا کہ سرکاری عمارتوں پر ہولڈنگ ٹیکس کے بقایا رہنے کا معاملہ نوٹس میں آیا ہے۔ اس سلسلے میں متعلقہ محکموں کو نوٹس بھیجا جائے گا۔ متعلقہ ملازمین کو بھی ٹیکس وصولی کا عمل تیز کرنے کی ہدایت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ محصولات کی وصولی سے متعلق اس معاملے میں ضروری کارروائی کی جائے گی۔میونسپل کارپوریشن عام طور پر ہولڈنگ ٹیکس کے بقایہ داروں کے خلاف نوٹس سمیت دیگر کارروائی کرتی ہے۔ ایسے میں سرکاری عمارتوں پر کروڑوں روپے کے بقایا ٹیکس کی وصولی کا معاملہ اہم بنا ہوا ہے۔ رواں مالی سال میں اب تک صرف 3.97 لاکھ روپے کی وصولی کے مقابلے میں ایک ارب 19 کروڑ روپے سے زائد کی بقایا رقم میونسپل کارپوریشن کی ٹیکس وصولی کے عمل کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

