تاثیر24 اکتوبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
ووٹروں نے جوش و خروش کے ساتھ حقِ رائے دہی کا کیا استعمال ، سیتامڑھی ضلع میں ٹیچر حلقۂ انتخاب میں 1,372 ووٹ ڈالے گئے
سیتامڑھی (مظفر عالم)
بہار قانون ساز کونسل کے ترہت گریجویٹ اور ٹیچر حلقۂ انتخاب کے دو سالہ انتخابات کے سلسلے میں جمعہ کو سیتامڑھی ضلع کے نانپور بلاک ہیڈکوارٹر میں قائم پولنگ اسٹیشنوں پر پُرامن ماحول میں ووٹنگ کا عمل مکمل ہوا۔ صبح 8 بجے پولنگ شروع ہوتے ہی مراکز پر ووٹروں کی قطاریں لگنے لگیں۔ اساتذہ، دانشوروں اور گریجویٹ ووٹروں میں اپنے نمائندے کے انتخاب کو لے کر خاصا جوش و خروش دیکھا گیا۔ دوپہر میں ووٹنگ کی رفتار کچھ سست پڑی، تاہم بعد میں ووٹروں کی آمد و رفت میں دوبارہ اضافہ ہوا۔ اس دوران سابق رکن اسمبلی مکیش کمار یادو، سابق بلاک پرمکھ رنکو دیوی سمیت دیگر ووٹروں نے بھی اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا۔
مقامی انتخابی سیل سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، نانپور بلاک ہیڈکوارٹر میں گریجویٹ حلقۂ انتخاب کے پولنگ اسٹیشن نمبر 21 (ک) پر کل 933 ووٹر درج تھے، جن میں سے 492 ووٹروں نے ووٹ ڈالے۔ ان میں 366 مرد اور 126 خواتین شامل تھیں۔
وہیں، پولنگ اسٹیشن نمبر 21 (کھ) پر مجموعی طور پر 940 ووٹر درج تھے، جن میں سے 634 نے اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا۔ ان میں 461 مرد اور 173 خواتین ووٹر شامل تھیں۔ ٹیچر حلقۂ انتخاب میں کل 57 ووٹر تھے، جن میں سے 55 اساتذہ نے ووٹ ڈالے۔ اس طرح یہاں ووٹنگ کا تناسب کافی زیادہ رہا۔ موصولہ معلومات کے مطابق، سیتامڑھی ضلع میں گریجویٹ حلقۂ انتخاب کے لیے 38 اور ٹیچر حلقۂ انتخاب کے لیے 17 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے۔ گریجویٹ حلقۂ انتخاب میں کل 39,640 ووٹر درج تھے، جبکہ ٹیچر حلقۂ انتخاب میں ووٹروں کی مجموعی تعداد 1,504 تھی۔ ضلع بھر میں ٹیچر حلقۂ انتخاب کے لیے مجموعی طور پر 1,372 ووٹ ڈالے گئے۔ بلاک وار اعداد و شمار کے مطابق، ڈمرا بلاک میں سب سے زیادہ 367 ووٹ ڈالے گئے، جبکہ مجرگنج بلاک میں سب سے کم 19 ووٹروں نے اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا۔
پولنگ کے پورے عمل کے دوران امن و امان کی صورت حال برقرار رہی۔ اب تمام امیدواروں کی نظریں 27 اکتوبر کو ہونے والی ووٹوں کی گنتی پر مرکوز ہیں، جس کے بعد انتخابی مقابلے کے نتائج سامنے آئیں گے۔
ترہت گریجویٹ حلقۂ انتخاب کا مقابلہ اس بار کافی دلچسپ ہو گیا ہے۔ آزاد امیدوار اور موجودہ رکن قانون ساز کونسل بنسی دھر، راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کی امیدوار ڈاکٹر ریشمی اور جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے امیدوار ابھیشیک جھا کے درمیان سخت مقابلے کی بات کہی جا رہی ہے۔ تینوں امیدواروں کے حامی اپنی اپنی جیت کے دعوے کرتے نظر آ رہے ہیں۔ انتخابی نتائج سے پہلے کئی اہم سوالات بھی سیاسی حلقوں میں زیرِ بحث ہیں۔ کیا اس انتخاب میں ذات پات کے مساوات نے فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے؟ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنماؤں کی خاموشی کیا جے ڈی یو امیدوار کے انتخابی امکانات پر اثر انداز ہوگی؟ اور کیا ڈاکٹر رشمی اپنے سسر کی سیاسی وراثت کو بچانے میں کامیاب ہو پائیں گی؟
ان سوالات کے جوابات 27 اکتوبر کو ووٹوں کی گنتی کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔ فی الحال امیدواروں اور ان کے حامیوں کی نظریں انتخابی نتائج پر ٹکی ہوئی ہیں۔

