تاثیر25 اکتوبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
بھاگلپور، 25 اکتوبر:بہار کے بھاگلپور شہر کا دل کہلانے والا تاریخی سینڈس کمپاؤنڈ ان دنوں بدانتظامی اور گندگی کا شکار ہے۔ اکتوبر کے آغاز میں یہاں تقریباً 20 دن تک جاری رہنے والا شاندار ٹریڈ فیئر ختم تو ہوگیا، لیکن اس کے بعد میدان میں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر چھوڑ دیے گئے۔ پلاسٹک کی تھیلیاں، سڑے گلے کھانے پینے کی اشیا اور گندگی سے اٹھنے والی بدبو نے لوگوں کی پریشانی بڑھا دی ہے۔سینڈس کمپاؤنڈ میں داخلے اور دیگر سہولیات کے نام پر عام لوگوں سے رقم وصول کی جاتی ہے۔ ایک مقررہ وقت کے بعد احاطے میں داخلے کے لیے فیس ادا کرنی پڑتی ہے، جبکہ گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے بھی فی گھنٹہ بھاری رقم وصول کی جاتی ہے۔ ایسے میں مقامی شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ جب عوام سے ہر سہولت کے لیے پیسے لیے جا رہے ہیں تو تاریخی میدان کی صفائی اور دیکھ بھال میں اتنی بڑی لاپروائی کیوں برتی جا رہی ہے؟
اسمارٹ سٹی منصوبے کے تحت کروڑوں روپے کی لاگت سے تیار کیے گئے اس میدان کے انتظام و انصرام کی ذمہ داری سنبھالنے والی نجی کمپنی بھی اب مقامی لوگوں کی تنقید کی زد میں ہے۔سینڈس کمپاو?نڈ میں روزانہ صبح اور شام ہزاروں افراد چہل قدمی کے لیے آتے ہیں۔ ٹریڈ فیئر کے اختتام کے بعد یہاں پھیلی گندگی سے شہریوں میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔تلکا مانجھی کے رہائشی ونے کمار نے کہا کہ وہ صبح کے وقت صاف ہوا میں سانس لینے کے لیے یہاں آتے ہیں، لیکن میلے کے خاتمے کے بعد سے چاروں طرف پلاسٹک کی تھیلیاں اور کچرا بکھرا پڑا ہے۔ ان کے مطابق پارک چلانے والی کمپنی کو صرف رقم وصول کرنے سے مطلب ہے، جبکہ صفائی کے معاملے میں انتظامات انتہائی ناقص ہیں۔وہیں بزرگ شہری اور روزانہ صبح چہل قدمی کے لیے آنے والے رمیش یادو نے کہا کہ پارکنگ کے لیے ہر گھنٹے پیسے وصول کیے جاتے ہیں، لیکن گاڑیوں کی حفاظت اور احاطے کی صفائی کے لیے کوئی جواب دہ نظر نہیں آتا۔ مقامی شہریوں کا الزام ہے کہ ٹریڈ فیئر سے کمپنی نے لاکھوں روپے کمائے، لیکن تقریب کے بعد سینڈس کمپاؤنڈ کو گندگی کے حوالے کرکے چھوڑ دیا۔ اس صورت حال نے اسمارٹ سٹی بھاگلپور کے دعووں پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

