تاثیر5 نومبر ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
ناگور، 5 نومبر : راجستھان کے ناگور کے بڑلی علاقے میں جمعرات کی صبح بارود کے گودام میں ہوئے زبردست دھماکے نے پورے علاقے کو دہلا دیا۔ صبح تقریباً پونے دس بجے ہوئے اس دھماکے میں دو چچازاد بھائیوں کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ دونوں کی لاشیں بری طرح مسخ ہو گئیں اور جسم کے اعضا تقریباً 15 فٹ دور جا گرے۔ حادثے میں دو دیگر نوجوان بھی شدید زخمی ہوئے ہیں۔
مرنے والوں کی شناخت ناگور شہر کے بازارواڑہ کے رہنے والے 28 سالہ محمد عامر شورگر اور 32 سالہ مجید شورگر کے طور پر ہوئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ گودام میں پوٹاشیم نائٹریٹ سمیت دیگر کیمیکلز کی مدد سے بارود تیار کیا جاتا تھا۔ گودام کے ایک حصے میں تیار پٹاخوں کا ذخیرہ بھی ملا ہے۔ گودام کے مالک کا نام امین بتایا جا رہا ہے۔ تاہم، گودام میں کتنی مقدار میں کیمیکلز اور پٹاخے رکھے گئے تھے، اس کی سرکاری طور پر ابھی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
دھماکے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ تقریباً 100 فٹ دور کھڑی بس کے شیشے ٹوٹ گئے اور آس پاس کے مکانات کی دیواروں میں دراڑیں پڑ گئیں۔ دھماکے کی آواز تقریباً نصف کلومیٹر دور تک سنی گئی۔ دھماکے کے بعد موقع پر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے۔
حادثے کے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد بھیڑ نے گودام کے باہر ہنگامہ شروع کر دیا۔ پولیس نے لوگوں کو ہٹانے کی کوشش کی تو کچھ افراد نے پتھراؤ شروع کر دیا۔ حالات بگڑنے پر پولیس نے لاٹھی چارج کرکے بھیڑ کو منتشر کر دیا۔ پولیس نے پانچ افراد کو حراست میں لیا ہے۔

