Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 4th Feb
اعظم گڑھ بین الاقوامی شاعر شاداب اعظمی کا قطر مشاعرے سے واپسی پر دبستان اردو نیاؤج کی جانب سے شال اور مومنٹو پیش کر کے استقبال کیا گیا گزشتہ دنوں قطر میں بزم صدف انٹرنیشنل کی جانب سے دو روزہ سیمینار و عالمی مشاعرے کا انعقاد 26و 27 جنوری کو شہاب الدین صاحب نے کیا جس میں کئی ممالک کے شعرا نے شرکت کی جس اعظم گڑھ سے شاداب اعظمی کو بھی مدعو کیا گیا شاداب اعظمی نے اپنی شاعری کے ذریعہ مشاعرے کو لوٹ لیا اعظم گڑھ واپسی پر ان کے اعزاز میں پروگرام رکھا گیا پروگرام کی صدارت مولوی شعبان صاحب و نظامت نسیم ساز نے کی پروگرام کا آغاز نعتیہ کلام سے غفران پیکر نے کیا اپنی نظامت کے دوران نسیم ساز نے کہا کہ سر زمین اعظم گڑھ کا ایک ایسا نام جو بہت تیزی سے ابھرا اور آسمان ادب پر چھا گیا وہ نام ہے شاداب اعظمی کا شاداب اعظمی کے اندر فطری شاعرانہ صلاحیتیں ہیں وہ اپنی شاعری کے ذریعے لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لیتے ہیں یہی ان کی شاعری کی سب سے بڑی معراج ہے انھوں نے شاعری کے ذریعہ قوم وطن اور معاشرے کی اصلاح بھی کی اور کم و بیش ہر طرح کے مضامین کو اپنی شاعری میں جگہ دیا مشاعرے اور ادبی رسالوں کے ذریعہ ان کے کلام ہر خوص و عام تک پہنچا ہے مشاعروں میں انھیں بہت محبت سے سنا جاتا ہے مشاعرے کے بعد بھی لوگ ان کی شاعری کو گنگناتے رہتے ہیں اپنی بات کو عوام تک پہچانے کے لئے جو زبان استعمال کرتے ہیں وہ بہت آسان ہوتی ہے اور ہر خاص و عام کے دلوں میں اتر جاتی ہے اس موقع پر پرمود شرما، انل یادو، حافظ غفران پنالال، کنچن، ارمیلا ذکرا بانو ادیبہ ایمن ہما بانو آمنہ بانو پرشنشا یادو شاہ جہاں ریتا یادو راجیش وغیرہ موجود رہے