Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 18th Feb
پٹنہ:17فروری (ایجنسی ) بھارت کو ہندو راشٹربنائے جانے سے متعلق سوال پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ بھارت ملک ہے یہاں یہ ممکن نہیں ہے۔ مختلف مذہب کو ماننے والے لوگ یہاں رہتے ہیں۔ اس ملک کے بارے میں اگر کوئی کچھ بولتا ہے تو اس کا کوئی ویلو نہیں ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ بابائے قوم مہاتما گاندھی کے علاوہ کسی اور کی بات نہیں سنی جانی چاہئے۔ پٹنہ میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہاں ہر مذہب اور فرقہ کے لوگ رہتے ہیں۔ اگر کوئی ہندوستان کو ہندو قوم بنانا چاہتا ہے تو وہ ملک کو تباہ کرنا چاہتا ہے کیونکہ یہ ممکن نہیں ہے۔واضح ہو کہ یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کچھ دنوں پہلے ہندو آئی ڈینٹیٹی کو ہر ہندوستانی کی تہذیبی شہریت بتایا تھااور بھارت کو ’’ہندو راشٹر ‘‘قرار دیا تھا۔ انہو ںنے کہا تھا کہ اکھنڈ بھارت کا خواب آنے والے دنوں میں شرمندہ تعبیر ہونے والا ہے۔ انتخاب میں لو گ کیا کریں گے بس انتظار کیجئے اور دیکھئے اس کےعلاوہ باگیشور دھام کےپنڈت دھریندر شاستری بھی اپنی ہندوراشٹر بنانے کی مہم کے سلسلے میں ابھی چرچے میں ہیں۔ سابق وزیر زراعت سدھاکر سنگھ کی طرف سے کسانوں کے لیے کچھ نہ کئے جانے کے الزام پر پر برہم ہوتے ہوئے انہوں نے کہا ’’مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی کیا کہہ رہا ہے یا نہیں کہہ رہا۔ ریاست میں زراعت کے شعبے میں کافی کام ہوا ہے۔ یہ سب جانتے ہیں۔ ہماری حکومت کسانوں کے لیے وقف ہے۔ ہم نے ہمیشہ کسانوں کے لیے کام کیا ہے۔ جو نہیں جانتے وہ جو چاہیں کہتے رہتے ہیں۔‘‘ان کا مزید کہنا تھا کہ پورے گاؤں میں کہیں کوئی مکان نظر نہیں آتا تھا، آج دیکھ لیں، ہمارے کام کی قدر تب ہی ہوگی جب لوگ بولیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر کوئی کچھ کہہ رہا ہے تو اسے کہنے دیں۔ مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کون کیا کہتا ہے۔ انہیں اب بھی حکومت کی طرف سے کئے گئے کاموں کو اچھی طرح سے جاننے کی ضرورت ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’سمادھان یاترا‘ کے دوران انہوں نے دیکھا ہے کہ بہار کے دیہاتوں میں ترقی ہو رہی ہے۔ ریاست نے کسی سے مدد لیے بغیر اپنے طور پر ترقی کی ہے۔ مخالفین پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر یہ لوگ نہیں بولیں گے تو اپنی پارٹی میں آگے کیسے بڑھیں گے۔بی بی سی کے دفتر پر انکم ٹیکس کی کارروائی سے جڑے سوال پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ بی بی سی پر ہوئی کارروائی سے سمجھ لیجئے کہ ان لوگوں کی خواہش کیا ہے وہ واضح ہے۔ ان لوگوں کے خلاف کوئی بھی بولے گا تو کارروائی ہوگی۔

