……..اپوزیشن کی ناک کٹنی طے ہے

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 25th Feb

ملک میں بی جے پی ہی ایک ایسی سیاسی جماعت ہے جو فل ٹائم چناؤ کے موڈ میں رہتی ہے۔حالانکہ اب کانگریس کے ساتھ ساتھ ریاست بہار میں بر سر اقتدار عظیم اتحاد نے بھی یہ اشارہ دے دیا ہے کہ ان کی متحدہ مورچہ بندی آخری مرحلے میں ہے۔ چنانچہ 2024 کا مقابلہ کانٹے کا ہوگا۔
کل ایک طرف بی جے پی کے سینئر لیڈر اور وزیر داخلہ امیت شاہ بہار کے سرحدی علاقہ والمیکی نگر میں ملک کی اپوزیشن جماعتوں کو کھری کھوٹی سنا رہے تھے وہیںپورنیہ میں منعقد عظیم اتحاد کی مہا ریلی میں سی ایم نتیش کمار اور ڈپٹی سی ایم تیجسوی پرساد یادو سیمت کانگریس، بائیں بازو کی پارٹیاں، ہندوستانی عوام مورچہ اور بہار کی دیگر تمام بی جے پی مخالف جماعتوں نے شرکت کی ۔ عظیم اتحاد کی مہا ریلی میں مرکز کی بی جے پی حکومت کو ہر محاذ پر ناکام بتایا گیا۔ کانگریس نے مرکزی حکومت پر اڈانی کیس سے لے کر خارجہ پالیسی اور تحقیقاتی ایجنسیوں کے غلط استعمال تک کا الزام لگایا۔ بائیں بازو کی جماعتوں نے بھی مودی حکومت کو خوب لعن طعن کیا۔ایک طرف والمیکی نگر میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جے ڈی یو، آر جے ڈی، کانگریس، بائیں بازو سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو نشانہ بنایا۔ دوسری طرف، پورنیہ میں عظیم اتحاد کی طرف سے منعقد کی گئی عظیم ریلی میں وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سمیت راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے لوگوں کو نشانہ بنایا گیا۔ نتیش کمار نے صرف چند اشاروں میں یہ پیغام دیا کہ اگر کانگریس بی جے پی مخالف پارٹیوں کو متحد نہیں کرتی ہے تو 2024 میں بی جے پی کو اقتدار میں آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے پورنیہ میں منعقد ریلی میں موجود لوگوں کو بتایا کہ انہوں نے بی جے پی کیوں چھوڑی۔ اس کے ساتھ ہی نتیش کمار نے ذات پر مبنی مردم شماری پر بھی بات کی۔ لالو پرساد یادو کو اپنا پرانا دوست بتاتے ہوئے نتیش کمار نے کہا کہ بی جے پی نے جھوٹے الزامات لگا کر لالو پرساد یادو کو پھنسانے کا کام کیا ہے۔ نتیش کمار نے ایک بار پھر دہرایا کہ انہیں وزیر اعظم بننے کی کوئی خواہش نہیں ہے۔ چنانچہ اب یہ کانگریس پر منحصر ہے کہ وہ کتنی جلد ملک کی تمام اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ نتیش کمار نے کانگریس کو یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ اگر اپوزیشن پارٹیاں متحد نہیں ہوں گی تو بی جے پی کی حکومت کو دوبارہ آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ایک طرح سے وزیر اعلیٰ نے یہ کہہ کر کانگریس کو ڈرانے کی کوشش کی ہے کہ راہل گاندھی کانگریسیوں کو تمام اپوزیشن کو متحد کرنے میں پہل کریں۔ اگر اپوزیشن ملک بھر میں متحد ہو جائے تو بی جے پی کو 100 سیٹوں سے نیچے روکا جا سکتا ہے۔ اسد الدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم نے مسلمانوں کو دھوکہ دے کر 5 سیٹیں جیتی تھیں۔ نتیش کمار کے مطابق اسد الدین اویسی کی پارٹی بی جے پی کے کہنے پر مسلمانوں کو تقسیم کرنے کا کام کرتی ہے۔ نتیش کمار نے یہ پیغام دیا کہ ہم متحد ر ہ کرہی مودی حکومت کو مرکزی اقتدار سے بے دخل کر سکتے ہیں۔نتیش کمار نے مسلمانوں کو یہ بتانے کی بھی کوشش کی کہ مرکز کی نریندر مودی حکومت مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہی ہے۔
ادھر چھتیس گڑھ کی راجدھانی رائے پور میں جاری 85ویں کنونشن کے کل دوسرے دن کانگریس نے بھی اپوزیشن کے اتحاد پر زور دیا۔کانگریس نے کہا کہ ہم خیال سیکولر جماعتوں کو اکٹھا ہونا چاہئے اور 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کا مقابلہ کرنے کے لئے اتحاد بنانا چاہئے۔اپنی ایک قرارداد میں، پارٹی نے کہا کہ’’سیکولر اور سوشلسٹ طاقتوں کا اتحاد کانگریس پارٹی کے مستقبل کو نشان زد کرے گا۔ کانگریس کو ہم خیال سیکولر طاقتوں کی شناخت، متحرک اور ان کے ساتھ منسلک کرنے کے تقاضے کو نشا ن زد کیااور کہا کہ ان کو آگے آنا چاہئے جو ہمارے نظریے سے متفق ہیں۔ مشترکہ نظریاتی بنیادوں پر این ڈی اے کا مقابلہ کرنے کے لیے متحدہ اپوزیشن کی فوری ضرورت ہے۔ تیسری قوت کے ابھرنے سے بی جے پی(این ڈی اے) کو فائدہ ہوگا۔
کانگریس صدر ملیکارجن کھڑ گے نے تو جمعہ کے روز ہی کہا تھا کہ پارٹی لوک سبھا انتخابات کے لئے ہم خیال جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرنے کی امید کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مشکل حالات میں کانگریس ملک کی واحد پارٹی ہے جو قابل اور فیصلہ کن قیادت فراہم کر سکتی ہے۔ 2004 سے 2014 تک کانگریس کی قیادت والے اتحاد کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ حزب اختلاف کے اتحاد کے لیے ایک طرف کانگریس کوشش کر رہی ہے تو دوسری طرف علاقائی پارٹیاں لوک سبھا انتخابات کے لیے تیسرے محاذ کی تیاری کر رہی ہیں۔
الغرض بہار کے عظیم اتحاد سے وابستہ تمام سیاسی جماعتیں بڑی تیزی کے ساتھ کانگریس کے قریب آتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ اسی طرح ملک کی دوسری جماعتوں کو بھی آگے آنا ہوگا۔ بصورت دیگر ناک کی لڑائی اگر اسی طرح جاری رہی تو 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں اپوزیشن کی ناک کٹنی طے ہے۔