آئی ایم ایف فنڈنگ کی بحالی کے لیے پاکستان کو ہی اقدامات کرنا ہوں گے: امریکہ

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 9th March

واشنگٹن،9مارچ : امریکہ نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ طے کردہ اصلاحات کو مکمل کرنے کا عمل جاری رکھے اور ملک میں جاری سیاسی تنائو کے تناظر میں تمام فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران وائس آف امریکہ کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آئی ایم ایف کی فنڈنگ کا راستہ کھولنے کے لیے بالآخر پاکستان کو ہی اقدامات کرنا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ “ہم پاکستان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ آئی ایم ایف کے ساتھ کام جاری رکھے، خاص طور پر ان اصلاحات میں جو پاکستان کے کاروباری ماحول کو بہتر بنائیں گے۔”آئی ایم ایف اپنے نویں جائزے کو کلیئر کرنے کے لیے گزشتہ ماہ کے اوائل سے اسلام آباد کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے، جسے اگر ایگزیکٹو بورڈ نے منظور کر لیا تو 2019 میں طے پانے والے 6.5 بلین ڈالر کے بیل آؤٹ میں سے وہ پاکستان کے لیے ایک اعشاریہ ایک بلین ڈالر قرض جاری کردے گا۔پاکستان کو بین الاقوامی ادائگیوں میں مشکلات کا سامنا ہے اور مرکزی بینک کے زرِمبادلہ کے ذخائر اس سطح پر گر گئے ہیں کہ ملک بمشکل چار ہفتوں کی درآمدات کو پورا کرنے کی سکت رکھتا ہے۔ آئی ایم ایف فنڈ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو آئی ایم ایف کو یہ یقین دہانی کرانا ہوگی کہ جون میں ختم ہونے والے مالی سال کے لیے اس کے بیلنس آف پیمنٹ خسارے کی مالی اعانت پوری ہو گئی ہے تاکہ آئی ایم ایف کی فنڈنگ کی اگلی قسط جاری کی جا سکے۔وائس آف امریکہ کو حال ہی میں دیے گئے ایک انٹرویو میں واشنگٹن کے دورے پر آئے پاکستان کے وزیرِ تجارت سید نوید قمر نے تسلیم کیا تھا کہ پاکستان کو آئی ایم ایف کی اس قسط کی ادائیگی کے بعد جون کے بعد پھر آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹانا ہو گا۔اس سلسلے میں نیڈ پرائس نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ “ہمیں یقین ہے کہ اصلاحات لانے سے پاکستانی کاروبار مزید مسابقتی ہو جائیں گے اور پاکستان کو بہتر سرمایہ کاری کو اپنی جانب راغب کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ لیکن سرمایہ کاری سے زیادہ اہمیت ٹیکنالوجیز کی ہیں، مارکیٹ کے ساتھ روابط اور انتظامی نظام ہیں جن کے ساتھ غیر ملکی سرمایہ کاری آتی ہے۔