مسلم سیاست کا انتہائی کمزور پہلو

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 29th March

کرناٹک اسمبلی انتخابات 2023 کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے انتخابات کے شیڈول کا اعلان کر دیا ہے۔ ریاست میں 10 مئی کو اسمبلی انتخابات ہوں گے اور انتخابی نتائج کا اعلان 13 مئی کو کیا جائے گا۔ 224 رکنی کرناٹک اسمبلی کی مدت 24 مئی کو ختم ہو رہی ہے۔ بی جے پی نے اسمبلی کی کل 224 سیٹوں میں سے کم از کم 150 سیٹیں جیتنے کا ہدف رکھا ہے۔دریں اثنا، کانگریس اور جنتا دل (سیکولر) نے بالترتیب 124 اور 93 امیدواروں کی اپنی پہلی فہرستیں جاری کر دی ہیں۔ اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ کرناٹک کی سیاسی جماعتیں پوری طرح سے انتخابی موڈ میں آ گئی ہیں۔صرف اتنا ہی نہیں بلکہ حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کے درمیان سیاسی کشمکش شروع ہوگئی۔ ساتھ ہی رائے دہندگان کو دھیان میں رکھ کر سیاسی و سماجی تانے بانے بھی بنے جانے لگے ہیں۔
سیاسی حلقوں میںکرناٹک اسمبلی انتخابات 2023 کو 2024 کے لوک سبھا انتخابات کا سیمی فائنل سمجھا جا رہا ہے۔ ایسے میں پورے ملک کی نظریںاس پر لگی ہوئی ہیں۔ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں ریاست میں کسی بھی پارٹی کو اکثریت نہیں ملی تھی۔ ان انتخابات میں بی جے پی 104 سیٹوں کے ساتھ واحد سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری تھی۔ کانگریس کو اوسطاََ سب سے زیادہ ووٹ ملے تھے لیکن وہ صرف 78 سیٹیں جیت سکی۔ وہیں جنتا دل (سیکولر) کو 37 سیٹیں ملی تھیں۔ چنانچہ جنوبی ہند میں بی جے پی کے لیے کرناٹک میں اپنے واحد اقتدار کو برقرار رکھنے کا چیلنج ہے، جب کہ کانگریس کے لیے واپسی کا چیلنج ہے۔ بسواراج بومائی کی مدد سے بی جے پی اپنی طاقت برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے، جب کہ کانگریس ڈی کے شیوکمار اورسدارامیا کی جوڑی کو ترقی دے کر اقتدار میں واپس آنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جے ڈی ایس کمار سوامی کی مدد سے کنگ میکر بننے کا خواب دیکھ رہی ہے۔
پچھلے اسمبلی انتخابات کے تناظر میں یہ حقائق سامنے آئے ہیں کہ کرناٹک کی 51 مخصوص سیٹیں انتخابات میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ریاست میں آخری حد بندی 2008 میں ہوئی تھی۔ اس حد بندی کے تجزیہ سے پتہ چلتا ہے کہ جس پارٹی نے زیادہ سے زیادہ ریزرو سیٹیں جیتی ہیں، اسی نے زیادہ تر کرناٹک میں حکمرانی کی ہے۔ کرناٹک میں 51 سیٹوں میں سے 15 سیٹیں درج فہرست قبائل اور 36 درج فہرست ذاتوںکے لیے مخصوص ہیں۔ اگر ہم 2008، 2013 اور 2018 کے انتخابات کے نتائج دیکھیں تو جنتا دل سیکولر نے خصوصی ریزرو سیٹیں نہیں جیتیں ہیں۔ دوسری طرف، کانگریس اور بی جے پی دونوں پارٹیا ں تین سیٹوں کے فرق کے ساتھ برابرکی ٹکر میں تھیں۔ حالانکہ جب بھی کانگریس نے کر ناٹک میں حکومت بنائی ہے، اس نے ریزرو سیٹوں کی تعداد کے لحاظ سے بی جے پی سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ سال 2018 میں کانگریس اور جے ڈی ایس نے مل کر حکومت بنائی تھی اور ایچ ڈی کمارسوامی وزیر اعلیٰ بنے تھے۔ تقریباً 14 ماہ بعد کانگریس اور جے ڈی ایس کی مخلوط حکومت گر گئی تھی۔ بی ایس یدی یورپا نے باغی کانگریس ایم ایل اے کی مدد سے بی جے پی کی حکومت بنائی۔ تاہم 2 سال بعد یدی یورپا کو بھی وزیر اعلیٰ کا عہدہ چھوڑنا پڑا۔ بی جے پی کی مرکزی قیادت نے ریاست میں وزیراعلیٰ کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا اور بسواراج بومائی کو بی ایس یدی یورپا کا جانشین منتخب کیا گیا۔
قابل ذکر ہے کہ کرناٹک کی سیاست میںایس سی اور ایس ٹی کمیونٹیز کی آبادی کل ووٹرز کا 24 فیصد ہے۔ ایسے میں تمام سیاسی جماعتوں کی نظریں عموماََانھیں دو برادریوںپر لگی ہوئی ہوتی ہیں۔ اب تک کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو ان دونوں برادریوں کے ووٹ تمام پارٹیوں میں تقسیم ہیں، لیکن کانگریس ان ووٹوں کا بڑا حصہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ دوسری جانب ریاست میں مسلم کمیونٹی کی آبادی کل آبادی کا 16 فیصد ہے۔ کرناٹک جنوبی بھارت کی دوسری سب سے بڑی مسلم آبادی والی ریاست ہے، جس کے شمالی حصے میں زیادہ تر مسلمان آباد ہیں۔ سیاسی ماہرین کے مطابق ریاست کی تقریباً 50 سیٹوں پر مسلم ووٹروں کا اثر ہے، ایسے میں مسلم ووٹرز وہاں کے انتخابی نتائج کو کافی حد تک بدلنے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں، لیکن پرانے انتخابی اعدادوشمار پر نظر ڈالیں تو مسلم آبادی کا ووٹ عموماََ جے ڈی ایس اور کانگریس کے درمیان تقسیم ہو جاتا ہے۔اور یہی ملک کی مسلم سیاست کا ایک انتہائی کمزور پہلو ہے، جس پر سنجیدگی کے ساتھ غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔
**********