! پھرکورونا سے مقابلہ کے لئے تیار رہیں

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 07 APRIL

کورونا وائرس نے ایک بار پھر دستک دے دی ہے۔ اس کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بہت سے لوگ بیمار بھی ہو رہے ہیں۔ دہلی میں اس کے انفیکشن کی شرح 20 فیصد کے قریب ہے۔ اس ہفتے بھی ایک ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ ایسی صورتحال میں تمام ریاستیں اس کو لے کر چوکنا ہو گئی ہیں۔ سال 2020 کا وہ وقت تھا جب کورونا نے اپنے پاؤں پھیلانے شروع کئے تھا۔ ایسے میں ایسا لگتا ہے کہ اپریل میں کورونا کی انٹری دوبارہ بھاری نہ پڑ جائے۔ ہریانہ نے کورونا کی چوتھی لہر سے بچنے کے لئےاپنی تیاریاں شروع کر دی ہیں اور 100 یا اس سے زیادہ لوگوں کے اجتماعات میں ماسک پہننا ضروری کر دیا ہے۔ مہاراشٹر کے ستارہ ضلع میں سرکاری ملازمین اور افسران کے لیے بھی ماسک پہننا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تمام ریاستی حکومتیں اس پر نظر رکھی ہوئی ہیں۔ لیکن جو سب کچھ جانتے ہوئے بھی اس سے نظریں چرا رہے ہیں، وہ عام لوگ ہے۔ چاہے وہ پبلک ٹرانسپورٹ ہو یا پبلک پلیس۔ ایسی جگہوں پر بہت کم لوگ ماسک پہنے ہوئے نظر آتے ہیں۔ سینیٹائزر مفت میں دستیاب ہیں، تب بھی لوگ اب انہیں استعمال نہیں کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کے دلوں میں اب کووِڈ کا خوف نہیں رہا۔ البتہ ڈاکٹروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس بار کا کووڈ مہلک نہیں ہے۔ لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر احتیاط نہ برتی گئی تو یہ آپ کو بہت نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس لیے یہ فیصلہ کرنا آپ پر منحصر ہے کہ آپ مصیبت آنے تک انتظار کریں گے یا پہلے ہی اس کا دفاع شروع کر دیں گے۔ صرف ایک ہفتے کے عرصے میں دہلی میں کووڈ کے انفیکشن کی شرح دوگنی ہو گئی ہے۔ تاہم ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس بار وائرس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی کوئی شدید طور پربیمار پڑ رہا ہے۔ لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جن لوگوں کو شوگر یا ہائی بلڈ پریشر جیسی بیماریاں ہیں، انہیں زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ بیماری انہیں زیادہ پریشان کر سکتی ہے۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ راجدھانی دہلی کے اکثر گھروں میں کوئی نہ کوئی فرد ان بیماریوں میں مبتلا ہے۔ ایسے میں دہلی کے زیادہ تر گھر اس طرح کورونا کے ریڈار پر ہیں۔
مشہور وائرولوجسٹ اور بی آر امبیڈکر سینٹر فار بائیو میڈیکل ریسرچ کے ڈائریکٹر پروفیسر سنیت کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس آر این اے وائرس ہے۔ جب آر این اے وائرس اپنی تعداد میں اضافہ کرتے ہیں تو ان میں بہت سی تبدیلیاں آتی ہیں اور ان کی مختلف قسمیں اور ذیلی قسمیں جنم لیتی ہیں۔ یہ بھی ایک پرانا کورونا وائرس ہے ،لیکن اس میں کچھ تبدیلیاں آئی ہیں ،جس کی وجہ سے اس کا انفیکشن تیزی سے پھیل رہا ہے۔ جن لوگوں کو ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر یا کوئی ایسا شخص ہے، جس نے اعضاء کی پیوند کاری کروائی ہے، انہیں اس سے زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب سینئر کنسلٹنٹ فزیشن ڈاکٹر انشول ورشنے کا کہنا ہے کہ موجودہ دور کے کورونا میں بخار، سر درد، چکر آنا، نزلہ، ذائقہ اور بو کی کمی جیسی علامات سامنے آرہی ہیں۔ جن لوگوں کو شوگر، ایچ آئی وی، کینسر، گردے کے مسائل اور قوت مدافعت کمزور ہے، یہ انہیں بھی بہت پریشان کر رہا ہے۔ اس بار خاص طور پر وہ بچے، جنہیں ویکسین نہیں لگائی گئی ہے، انھیںصحت یاب ہونے میں کافی وقت لگ رہا ہے۔ اگر آپ کو کھانسی، زکام اور بخار ہو رہا ہے تو سمجھ لیں کہ یہ کورونا ہو سکتا ہے۔ ایسی حالت میں اپنے ڈاکٹر سے چیک اپ کروانے کے بعد ہی دوا لیں۔ یہ کوئی بہت پرانی بات نہیں ہے، جب ہر کوئی ماسک پہن کر گھومتا تھا اور سینیٹائزر کا استعمال بھی عام تھا، لیکن جیسے ہی کورونا چلا گیا، اسی طرح ماسک اور ہم نے اپنی زندگی سے سینیٹائزر بھی نکال دیا ہے۔ لیکن اب جس طرح دوبارہ کورونا کیسز بڑھ رہے ہیں، زندگی میں ماسک اور سینیٹائزر کی واپسی ضروری ہو گئی ہے۔ خاص طور پر اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ دوبارہ بڑے پیمانے پر نہ پھیلے اور آپ یا خاندان کے کسی فرد کو بیمار ہونے کے بعد گھر بیٹھنا نہ پڑے۔ پروفیسر سنیت کے سنگھ کہتے ہیں، ‘کورونا سے بچنے کے لیے ہر ایک کو ماسک اور سینیٹائزر کا استعمال کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ بھیڑ والے علاقوں میں جانے سے بھی گریز کیا جائے۔ یہ کوویڈ ہے، لیکن اگر ہم عام نزلہ کی بات کریں تو اس میں بھی بالخصوص چھینکتے وقت منہ کو ڈھانپ کر رکھنا چاہیے۔
کسی بھی وائرل انفیکشن میں کووڈ پروٹوکول کا خیال رکھنا چاہیے۔ اگر انفیکشن زیادہ ہے، تو آپ کووڈ سے متاثر تو ہو ہی سکتے ہیںاسے کسی اور کوبھی منتقل کر سکتے ہیں۔ اس لیے ماسک پہننا اور بھیڑ سے دور رہنا ضروری ہے۔ اس بیماری سے بچنے کے لیے دوبارہ وہی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی ہوں گی، جو ہم پہلے کر رہے تھے۔ لیکن اب دیکھا جا رہا ہے کہ زیادہ تر لوگ ماسک نہیں پہن رہے ہیں۔کم از کم مریض کو ماسک پہننا چاہیے۔مرکزی حکومت نے کورونا کے بڑھتے ہوئے معاملات کے مدنظر ریاستوں کو چوکس رہنے اور کووڈ ۔19 کے انتظام کے لیے تیار رہنے کو کہا ہے۔ حکومت کی جانب سے ریاستوں سے کہا گیا ہے کہ وہ انفیکشن کے زیادہ کیسز والی جگہوں کی نشاندہی کریں، جانچ میں اضافہ کریں، بنیادی ڈھانچے کی تیاری کو یقینی بنائیں۔10 اور 11 اپریل کو تمام صحت کے اداروں میں ماک ڈرل ہونا ہے۔عوام کو بھی چاہئے کہ کورونا سے مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہیں۔بھارت میں ابھی اکٹیو کیسز کی تعداد 4435 ہے۔یہ تعدا د مزید بڑھے نہیں، اس کا خاص خیال رکھنا تمام با شعور شہریوں کی ذمہ داری ہے۔
****************