دھرم کا دھندا سب سے آگے ہے

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –6 MAY

10 مئی کو کرناٹک میں اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے۔ جیسے جیسے پولنگ کی تاریخ قریب آرہی ہے، مذہب کی آڑ میںپولرائزیشن کا کاروبار پھلتا پھولتا نظر آرہا ہے۔ کانگریس نے اپنے انتخابی منشور میں بجرنگ دل پر پابندی لگانے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ بی جے پی کو موقع ہاتھ آگیا۔اب تو وزیر اعظم نریندر مودی نے خود اپنی ریلیوں میں’’جئے بجرنگ بلی ‘‘کے نعرے لگانے شروع کردیئے۔ ہنومان چلیسہ کا پاٹھ شروع ہو گیاہے۔وزیراعظم کا ایک ویڈیو بھی وائرل ہوا ہے ،جس میں وہ ایک جلسے میں کہہ رہے ہیں کہ 10 مئی کو جب پولنگ بوتھ پر ووٹ ڈالیں گے توانھیں ’’جے بجرنگ بلی‘‘ کہہ کر سزا دیں۔بی جے پی کے اس رویہ نے کانگریس کو دفاعی موڈ میں پہنچا دیا ہے۔وہ ڈایمج کنٹرول میں لگ گئی ہے۔ تاہم اس کا دعویٰ ان کی پارٹی اقتدار میں آ رہی ہے۔ لیکن بجرنگ دل پر پابندی لگانے کی کوئی تجویز نہیں ہے۔
کانگریس کےترجمان گورو ولبھ کا کہنا ہے کہ کانگریس معاشرے میں تقسیم اور نفرت کے بیج بونے والے افراد اور تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنے کے معاملے میں پرعزم ہے۔ دوسری طرف حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے پی ایم کو نشانہ بناتے ہوئے سوال کیا ہے کہ کیا میں بھی اب شروعات کروں؟ ’’نعرہ تکبیر اللہ اکبر کہو ‘‘ میڈیا والے ہمارے خلاف لگ جائیں گے۔ اگر وہ بطور وزیراعظم ایسا کر رہے ہیں تو کیا پیغام دے رہے ہیں۔انھوں نے کسی کو بھی نہیں چھوڑا ہے۔وہ کانگریس سے بابری مسجد، حجاب اور یو اے پی اے پر اس کا موقف جاننا چاہتے ہیں۔ اس دوران کانگریس کے ریاستی صدر ڈی کے شیوکمار نے اعلان کیا کہ اگر کانگریس اقتدار میں آتی ہے تو ہم مزید ہنومان مندر بنائیں گے۔ ایسے میں کرناٹک کے ایک پسماندہ علاقے کی حالت کو جاننے والے یہ جانتے ہیں کہ انتخابات کے رخ کو دھرم اور مذہب کی جانب موڑنے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے۔ اس علاقے میں نہ تو کوئی اسکول ہے اور نہ ہی گھر، لیکن دھرم کی باتیں خوب ہو رہی ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ کانگریس نے اپنے منشور میں کہا کہ وہ ذات پات اور مذہب کی بنیاد پر برادریوں کے درمیان نفرت کو فروغ دینے والے افراد اور تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا عزم رکھتی ہے۔ اس نے لکھا،کوئی بھی شخص یا بجرنگ دل، پی ایف آئی اور نفرت پھیلانے والی دوسری تنظیمیں، چاہے وہ اکثریت میں ہو یا اقلیتوں میں، قانون اور آئین کی خلاف ورزی نہیں کر سکتی۔ ہم قانون کے تحت ایسی تنظیموں پر پابندی کے ساتھ ساتھ سخت کارروائی کریں گے۔ کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ وزیر اعظم نے بھگوان ہنومان کا ایک تنظیم سے موازنہ کرکے بجرنگ بلی کے عقیدت مندوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق کرناٹک کے پسماندہ رائچور ضلع میں شہر کے ٹیپو سلطان پارک کے آس پاس کے علاقے کی کھوج کی گئی ہے۔ زرعی مزدور یونین کے رہنما ابھے کمار یہاں بھوک ہڑتال پر ہیں۔ وہ گاؤں میں پینے کے پانی کی فراہمی اور منریگا ملازمتوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کے ساتھ کئی خواتین بھی احتجاج میں شامل ہیں۔ ریاست میں انتخابات میں صرف چار دن رہ گئے ہیں۔ کئی افسران احتجاج کو روکنے کے لیے ان سے ملنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس یونین کا اثر 21 گاؤں میں ہے۔ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں اس یونین نے نوٹا مہم چلائی تھی۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ نوٹا کو 14000 ووٹ ملے اور تیسرے نمبر پر رہا۔
بتایا جاتا ہے کہ اس پسماندہ رائچور میں نریگا غریبوں بالخصوص خواتین کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ یہاں سے سینکڑوں مزدور تعمیراتی کام کے لیے بنگلورو، منگلورو جاتے ہیں۔ ریاستی حکومت یہاں کے کئی دیہاتوں میں روزگار کی ضمانت کی اسکیم کا فائدہ نہیں دے پا رہی ہے۔اس سے گاؤں والے بہت ناراض ہیں۔ کرناٹک کے دو سب سے پسماندہ اضلاع رائچور اور یادگیر کی حالت یہ ہے کہ دیہاتوں میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد بے روزگار ہے۔ اس میں 11 اسمبلی حلقے شامل ہیں۔ ایک کارکن کا کہنا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کے لیے بہت محنت کرتے ہیں تاکہ انہیں ہماری طرح جدوجہد نہ کرنی پڑے ،لیکن انہیں نوکریاں نہیں ملتی ہیں۔ ایسے حالات میں مجبوری میں وہ بھی ہمارے ساتھ تعمیراتی کام کروانے شہر آتے ہیں۔ رائچور شہر سے ممدا پور گاؤں تقریباً 10 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہاں خواتین کو اب بھی پینے کا پانی حاصل کرنے کے لیے تقریباً 4 کلومیٹر پیدل چلنا پڑتا ہے۔ یہاں نہ کوئی اسکول ہے اور نہ ہی کوئی بس آتی ہے۔ ایسے میں بچے پڑھائی نہیں کر پاتے۔ تاہم اس وقت ریاست بھر میں مذہبی شور سنائی دے رہا ہے۔ کرناٹک میں اس وقت بی جے پی کی حکومت ہے اور اس سے پہلے کانگریس کی حکومت تھی۔بی جے پی دوبارہ اقتدار میں آنا چاہتی ہے۔کانگریس بھی کامیابی کا دعویٰ کر رہی ہے۔لیکن اس بار انتخابی سیاست میں ترقی پیچھے اور دھرم کا دھندا سب سے آگے ہے۔
***************