TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –20 MAY
ممبئی ، 20 مئی: مہاراشٹر نو نرمان سینا (ایم این ایس) کے صدر راج ٹھاکرے نے کہا کہ کسی کو بھی ریاست میں سماجی یکجہتی کو بے ساختہ خراب کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔ ترمبکیشور مندر میں زبردستی گھسنے کے نام پر تل کو تاڑ بنانے کی کوشش کی گئی۔ کیا سیاسی جماعتیں ریاست میں فساد برپا کرنا چاہتی ہیں ؟ ان فسادات سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہونے والا ہے ، اس بات کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔
ایم این ایس سربراہ راج ٹھاکرے ہفتہ کو ناسک میں صحافیوں سے بات کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ہندو مذہب اتنا کمزور نہیں ہے جو مندر میں کسی کے جانے سے ختم ہوجائے گا۔ مہاراشٹر میں بہت سی مسجدیں اور مندر ہیں ، جہاں ہندو اور مسلمان ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔ ماہم پولیس اسٹیشن کی جانب سے ماہم کی درگاہ پر چادر چڑھائی جاتی ہے۔ میرے پاس اور بھی مثالیں ہیں۔ یہ روایت جاری رہنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی درگاہ پر آتا ہے تو دین کیسے خراب ہوتا ہے ؟ کیا دین اتنا کمزور ہے ؟ بہت سے مسلمان مندر میں آتے ہیں۔ ہمارے اپنے مندر میں آج بھی بعض ذاتوں کے لوگوں کو مندر کے احاطے کے اندر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ ٹھاکرے نے کہا کہ اس کا فیصلہ ترمبکیشور کے گاؤں والوں کو کرنا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی مشورہ دیا کہ باہر والے اس میں نہ پڑیں۔
قابل ذکر ہے کہ ترمبکیشور میں ایک عرس کے دوران کچھ لوگوں نے مندر کے باہر کھڑے ہو کردھوپ دکھانے کی کوشش کی تھی۔ ہندومہاسبھا نے اس واقعہ کی زبردست مخالفت کی تھی۔ جس سے اس واقعہ کی ایس آئی ٹی جانچ کا اعلان نائب وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس نے کی ہے۔ اس معاملے کی سنجیدگی کے ساتھ تفتیش ہورہی ہے۔