’اپوزیشن کی دال نہیں گلے گی ‘

تاثیر،۲۳ دسمبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

منی پور میں غیر قبائلی میتئی اور کوکی قبائل کے درمیان نسلی تشدد 7 نومبر کے میزورم اسمبلی انتخابات میں اہم ایشوز میں سے ایک تھے۔سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ نسلی عداوت اور ان سے جڑے سیاسی پہلو یقیناً 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں نہ صرف شمال مشرقی ریاستوں میں بلکہ پورے ملک میں موضوع بحث رہیں گے۔
قابل ذکر ہے کہ منی پور میں آٹھ ماہ تک جاری رہی نسلی بدامنی نے حکمراں بی جے پی کو تب دھچکا پہنچایا تھا ،جب اس کے سات ایم ایل ایز کے ساتھ ساتھ ایک دیگر پارٹی کے تین ایم ایل ایز نے نہ صرف قبائلیوں کےلیےالگ انتظامیہ کا مطالبہ کیا تھا بلکہ انھوں نے بار بار وزیر اعلیٰ این برین سنگھ کو عہدہ چھوڑنے کے لئے اور موجودہ بدامنی کے لیے بی جے پی رہنماؤں کی تنقید بھی کی تھی۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، مرکز اور ریاست کے بی جے پی لیڈروں اور وزیر اعلیٰ نے کئی مواقع پر دس ایم ایل ایز اورا نڈیجینس ٹرائبل لیڈرز فورم (آئی ٹی ایل ایف) اور کوکی امپی منی پور (کے آئی ایم ) سمیت مختلف قبائلی جماعتوں کے ذریعہ کئے جا رہے الگ انتظامیہ کے مطالبے کو مسترد کر دیا تھا۔ کانگریس کی قیادت میں تمام اپوزیشن جماعتوں نے بھی منی پور تشدد پر وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔طویل عرصےتک جاری رہی نسلی خونریزی کو ایک بڑا قومی مسئلہ بناتے ہوئے، اپوزیشن جماعتوں نے بھی امیت شاہ کو اس معاملے کو ’ مبینہ طور پر’غلط طریقے سے نمٹنے‘‘ پر تنقید کا نشانہ بنایا۔
اسمبلی انتخابات کی تشہیر کے لئے30 اکتوبر کو میزورم جانے والے پی ایم مودی نے اپنے دورے کو رد کر دیا تھا ۔ بی جے پی رہنماؤں نے کہا تھا کہ وزیر داخلہ امیدواروں کے لئے پرچار کریں گے، لیکن انھوں نے چناؤ سے پہلے کثیر آباد اس عیسائی ریاست کا دورہ بھی نہیں کیا۔پی ایم مودی کا دورہ رد ہونے پر تبصرہ کرتے ہوئے کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے کہا تھا کہ منی پور تشدد پر خاموشی کی وجہ سے پی ایم مودی نے اپنے میزورم چناؤ ریلی رد کر دی۔جے رام رمیش نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا تھا’’وزیر اعظم کو 30 اکتوبر کو میزورم میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرنا تھا، لیکن، اب اطلاعات ہیں کہ انہوں نے اپنا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔ کیا یہ اس لیے ہو سکتا ہے کہ سوالات اٹھائے جائیں گے کہ انہیں بحران زدہ پڑوسی ریاست کا دورہ کرنے کا وقت نہیں ملا۔ سوال یہ بھی اٹھنے لگا تھا کہ وہ کس چہرے کے ساتھ میزورم کی ریلی میں جائیں گے؟
منی پور میں کانگریس کی قیادت میں دس ہم خیال جماعتوں نے ریلیاں اور کئی دوسرے ایجی ٹیشن پروگرام منعقد کیے اور ریاستی گورنر انوسویا یوئیکے کو ایک میمورنڈم پیش کیا تھا۔ساتھ ہی دعویٰ کیا تھا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے نسلی گروہوں کے درمیان جد و جہد کے بحران میں مداخلت نہیں کرنے کا راستہ چنا ہے۔ منی پور کے تین بارکے سابق وزیر اعلیٰ اوکرام ایبوبی سنگھ کی قیادت میں دس جماعتوں کے رہنماؤں نے گورنر کو بتایا تھا کہ منی پور میں کئی مہینوں سے جاری بحران کے باوجود، اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ کوئی بامعنی امن مذاکرہ نظر نہیں آ رہاہے۔
اِدھر10 پارٹیا ں، جن میں عام آدمی پارٹی ، ٹی ایم سی، سی پی آئی(ایم)، سی پی آئی، فاروارڈ بلاک ۔آر ایس پی، شیو سینا یو بی ٹی،جنتا دل یونائیٹڈ اور راشٹر وادی کانگریس پارٹی بھی شامل ہیں۔انھوں نے مطالبہ کیاتھا حکومت بحران کے قابل قبول حل کے لئے سبھی اسٹیک ہولڈرس سے بات کریں اور مستقل طور پر امن قائم کریں۔
یہ بات سب کو معلوم ہے کہ منی پور میں تقریباََ 8 ماہ قبل درج فہرست ذات (ایس ٹی) کا درجہ دینے کے سلسلے میںمیتئی کمیو نٹی کے مطالبے کے خلاف ریاست کے پہاڑی ضلعوں میں ’’ قبائلی یکجہتی مارچ‘‘ منعقد کیے جانے کے بعد نسلی تشدد پھوٹ پڑا تھا۔ غیر قبائلی میتئی اور قبائلی کوکی سماج کے درمیان نسلی فسادات میں 182 افراد ہلاک، کئی سو زخمی اور دونوںکمیونٹیزکے70 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوگئے ۔ منی پور کی آبادی میں میتئی کمیونیٹیز کی تعداد تقریباً 53 فیصد ہے اور زیادہ تر وادی امپھال میں رہتے ہیں۔ قبائلی ناگا اور کوکیز کی آبادی کل آبادی کا 40 فیصد ہے اور وہ پہاڑی ضلعوں میںرہتے ہیں۔ منی پور کی 60 اسمبلی سیٹوں میں سے سیٹیں ناگا، کوکی زو زومی کمیونٹیز کے قبائلیوں کے لیے مخصوص ہیں۔ بقیہ 41 سیٹیں زیادہ تر میتئی کے غلبہ والے وادی علاقوں میں ہیں۔منی پور اب پہاڑیوں ،جہاں قبائلی رہتے ہیںاور وادی جہاں میتئی رہتے ہیں، کے درمیان منقسم ہے۔ سمجھا جا ریا ہے منی پور کی سیاسی و سماجی صورتحال کی وجہ سے حکمران بی جے پی کو 2024 کے پارلیمانی انتخابات میں ایک بڑے چیلنج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔حالانکہ بی جے پی کے ریاستی رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ وہاں اپوزیشن کی دال نہیں گلے گی۔
*********