تاثیر،۱۵فروری ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
نئی دہلی، 15 فروری : کانگریس پارٹی نے انتخابی بانڈ اسکیم کو ختم کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ پارٹی نے امید ظاہر کی ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اب سپریم کورٹ کی بات سنے گی اور مستقبل میں شفاف، جمہوری اور مساوی مواقع کے حالات کو نقصان پہنچانے سے گریز کرے گی۔کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے کا کہنا ہے کہ پارٹی پہلے دن سے مانتی ہے کہ اس منصوبے میں وضاحت کا فقدان ہے اور یہ غیر جمہوری ہے۔ سپریم کورٹ نے کالے دھن کو تبدیل کرنے کے اس منصوبے کو بھی غیر آئینی قرار دیا ہے۔ بی جے پی نے آر بی آئی، الیکشن کمیشن، پارلیمنٹ اور اپوزیشن سمیت سب کو بلڈوز کرکے اس اسکیم کو پاس کروایا۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ اسکیم سے حاصل ہونے والی رقم کا 95 فیصد صرف بی جے پی کو گیا۔ کانگریس نے اپنے 2019 کے منشور میں واضح طور پر کہا تھا کہ اگر وہ اقتدار میں آتی ہے تو اس اسکیم کو ختم کر دیا جائے گا۔پارٹی کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے کہا ہے کہ انتخابی بانڈز کو غیر آئینی قرار دینے کا فیصلہ خوش آئند ہے۔ یہ نوٹوں پر ووٹنگ کی طاقت مضبوط ہوگی۔ اس فیصلے کا کافی عرصے سے انتظار تھا۔ مودی سرکار ’عطیہ دہندگان‘ کو خصوصی حقوق اور چھوٹ دے رہی ہے جبکہ ’ان داتوں‘ کے ساتھ ناانصافی کے بعد ناانصافی کر رہی ہے۔
انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ سپریم کورٹ اس حقیقت کا بھی نوٹس لے گی کہ الیکشن کمیشن ووٹر ویریفائی ایبل پیپر آڈٹ ٹریل (وی وی پی اے ٹی) کے معاملے پر سیاسی جماعتوں سے ملنے سے مسلسل انکار کر رہا ہے۔ اگر ووٹنگ کے عمل میں سب کچھ شفاف اور صاف ہے تو پھر وقت نہ دینے پر اصرار کیوں؟

