نیپال میں حکمران ماو نواز پارٹی کے دو رہنماوں نے وزیر اعظم پرچنڈ کے خلاف بغاوت کا بگل بجا یا

تاثیر،۲۹فروری ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

نیپال، 29 فروری : نیپال میں حکمراں جماعت ماوسٹ پارٹی کے دو بڑے لیڈر جناردن شرما اور کھگراج بھٹ نے وزیر اعظم پشپ کمل دہل پرچنڈ پر خاندان پرستی کا الزام لگا کر بغاوت کا بگل پھونک دیا ہے۔ماونواز پارٹی کی کمان پرچنڈ کے ہاتھ میں ہے ۔ وہ اس کے صدر ہیں۔
ڈپٹی جنرل سکریٹری شرما اور بھٹ نے پارٹی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ کے بعد پرچنڈ کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔شرما کو پرچنڈ کا معتمد سمجھا جاتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ماو نواز پارٹی کی اسٹینڈنگ کمیٹی میں کئی لیڈروں کی ذمہ داریاں تبدیل کی گئی ہیں۔ ان میں دو سرکردہ لیڈروں ورشمان پن اور جناردن شرما کو کوئی ذمہ داری نہیں دی گئی ہے۔ پرچنڈ نے اپنے چھوٹے بھائی نارائن دہل اور بہو بینا مگر کو اہم ذمہ داریاں سونپی ہیں۔ نارائن کو باگمتی علاقہ کا شریک انچارج بنایا گیا ہے اور بینا مگر کو مغربیصوبے کا شریک انچارج بنایا گیا ہے۔
شرما نے پارٹی صدر پرچنڈ کو خط لکھا ہے۔ اس میں پرچنڈ پر اقربا پروری کو فروغ دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ کسی بھی حال میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا ہے کہ پرچنڈ نے زیادہ تر ممبران کے براہ راست انتخابات کے مطالبے کو نظر انداز کرتے ہوئے من مانی کی ہے۔ ایک اور بڑے لیڈر کھگراج بھٹ نے بھی ایک خط میں پارٹی چھوڑنے کی دھمکی دی ہے۔